Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دوبارہ خطرہ ہوا تو امریکی توانائی نظام نشانے پر ہوگا، پاسداران انقلاب کی دھمکی

‘خلیج فارس میں اب ایک بھی امریکی جنگی جہاز موجود نہیں’

تہران: پاسداران انقلاب ایران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بعد خلیج فارس سے تمام امریکی بحری جنگی جہاز ہٹا لیے گئے ہیں اور اس وقت وہاں امریکا کا کوئی جنگی جہاز موجود نہیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنگ کے دوران خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی بحری جہاز موجود تھے جبکہ ایران عراق جنگ کے دوران امریکا نے اس خطے میں 100 سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے تھے۔ موجودہ صورتحال میں خلیج فارس میں امریکا کا ایک بھی جنگی جہاز موجود نہیں۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ایران کے جوابی اقدامات کے نتیجے میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی ہب کو بھی نشانہ بنایا جس کے جواب میں ایران نے امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ایسے حملے کیے کہ واشنگٹن کے لیے اسی شدت کے ساتھ جنگ جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔

حسین محبی نے مزید خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں ایران کو دوبارہ کسی خطرے یا حملے کا سامنا کرنا پڑا تو خطے میں موجود امریکی اور دیگر توانائی کے نظام سمیت انٹرنیٹ سے منسلک عالمی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خلیج فارس سے امریکی بحری جہازوں کی مبینہ واپسی یا ایران کی ناکہ بندی سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

متعلقہ خبریں