خلا کی دنیا میں ایک بار پھر تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے، جہاں ناسا 50 سال سے زائد عرصے بعد انسانوں کو دوبارہ گہری خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
آخری بار انسان نے 1972 میں اپالو پروگرام کے تحت زمین کے مدار سے باہر قدم رکھا تھا، اور اب آنے والا آرٹیمس 2 مشن ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہونے جا رہا ہے۔
یہ مشن چار خلا بازوں کو چاند کے گرد لے جا کر دوبارہ زمین پر واپس لائے گا، اور یہ پہلا موقع ہوگا جب نصف صدی بعد انسان لو ارتھ آربٹ سے آگے جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس مشن کا راستہ اتنا طویل ہوگا کہ یہ انسانی تاریخ کے کسی بھی مشن سے زیادہ دوری طے کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 2022 میں آرٹیمس ون کا بغیر انسانوں کے کامیاب تجربہ کیا گیا تھا، جس نے اس بڑے مشن کے لیے راہ ہموار کی۔ اس دوران اسپیس لانچ سسٹم، راکٹ کی طاقت اور جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔
اب کینیڈی اسپیس سینٹر سے متوقع لانچ کے ساتھ ایک بار پھر دنیا کی نظریں خلا کی جانب مرکوز ہیں، جہاں انسان نئی سرحدوں کو عبور کرنے جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن نہ صرف سائنسی تحقیق بلکہ مستقبل میں چاند اور مریخ پر انسانی مشنز کی بنیاد بھی رکھے گا، جبکہ خلا کی تلاش کے شوقین افراد کے لیے یہ لمحہ کسی خواب سے کم نہیں۔
دنیا بھر کے لوگ اس تاریخی لمحے کے منتظر ہیں، جب انسان ایک بار پھر زمین کی حدود سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں قدم رکھے گا۔




















