Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائنسدانوں نے خلا سے آنے والے پراسرار سگنلز کا سراغ لگالیا

گزشتہ چند سالوں میں کہکشاں کے مختلف حصوں سے غیر معمولی ریڈیو سگنلز دریافت ہوئے ہیں۔

سائنسدانوں نے خلا سے موصول ہونے والے پراسرار ریڈیو سگنلز کی اصل نوعیت جاننے کے لیے ایک ایسا نظام دریافت کیا ہے جو ان عجیب و غریب سگنلز کی وضاحت کرسکتا ہے۔ ماہرین نے اسے ایک اہم ’’کڑی‘‘ قرار دیا ہے جو برسوں سے الجھے ہوئے کائناتی راز کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں کہکشاں کے مختلف حصوں سے ایسے غیر معمولی ریڈیو سگنلز دریافت ہوئے ہیں جو مخصوص وقفوں سے کم رفتار کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں۔ یہ سگنلز کسی معروف فلکیاتی جسم سے مطابقت نہیں رکھتے تھے جس کے باعث سائنسدان کافی عرصے تک ان کی اصل وجہ سمجھنے سے قاصر رہے۔

تحقیق کے مطابق اب تک تقریباً ایک درجن ایسے پراسرار سگنلز دریافت ہوچکے ہیں جو مختلف مقامات سے موصول ہوئے اور ان کی نوعیت ایک جیسی نہیں تھی۔ ان میں سے ایک سگنل ہر 18 منٹ کے بعد کچھ دیر کے لیے انتہائی روشن ہوجاتا تھا اور پھر غائب ہوجاتا تھا۔

سائنسدانوں نے حالیہ تحقیق میں ایک ایسے ستاروں کے نظام کا سراغ لگایا ہے جو اس پراسرار عمل کو واضح کرتا ہے۔ یہ نظام ایک سفید بونا ستارہ اور اس کے ساتھی ستارے پر مشتمل ہے، جہاں سفید بونا ستارہ اپنے قریبی ساتھی سے مادہ کھینچتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس عمل کے دوران شدید مقناطیسی اثرات پیدا ہوتے ہیں جو توانائی کے شدید اخراج کا سبب بنتے ہیں۔ یہی توانائی کبھی ریڈیو اور کبھی ایکس ریز کی صورت میں خلا میں خارج ہوتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نظام میں ستارے ایک دوسرے کے گرد انتہائی کم وقت میں چکر مکمل کرتے ہیں جس کے باعث ہر 81 منٹ بعد توانائی کا اخراج ہوتا ہے اور یہی اشارے زمین تک پہنچتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اس دریافت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام دیگر اسی نوعیت کے پراسرار سگنلز کو سمجھنے میں ’’کلیدی کڑی‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دریافتوں سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ کائنات میں ایسے کئی نظام موجود ہیں جو انتہائی طاقتور مقناطیسی اور حرارتی سرگرمیوں کے باعث غیر معمولی سگنلز پیدا کرتے ہیں۔