سائنسدانوں نے بالآخر وہ عمل دریافت کرلیا ہے جس کے ذریعے تمباکو کے پودے میں نکوٹین بنتی ہے جب کہ یہ دریافت تقریباً 200 سال سے جاری تحقیق کا نتیجہ ہے اور اسے نباتاتی سائنس میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسان ہزاروں سال سے تمباکو استعمال کررہے ہیں تاہم نکوٹین پہلی بار 1820 کی دہائی میں پودے سے الگ کی گئی تھی۔ اب جدید تحقیق نے واضح کردیا ہے کہ پودا یہ نشہ آور مادہ کس طرح تیار کرتا ہے۔
برطانیہ اور ڈنمارک کے سائنسدانوں نے تمباکو کے پودے کے جینیاتی نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا اور وہ جینز اور خامرے شناخت کیے جو نکوٹین بنانے کے عمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ یہ تمام جینز ایک ساتھ فعال ہوکر نکوٹین کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق نکوٹین کی تیاری ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے جس میں پودے میں موجود بنیادی اجزاء پہلے ایک خاص مرحلے سے گزرتے ہیں اور پھر مخصوص خامروں کی مدد سے نکوٹین میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس عمل میں ایک شکر نما مادہ بھی شامل ہوتا ہے جو ابتدا میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن بعد میں ختم ہوجاتا ہے۔
سائنسدانوں نے دو اہم خامروں کی بھی نشاندہی کی ہے جو اس پورے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اور نکوٹین کی تشکیل کو ممکن بناتے ہیں۔ تجربات میں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ یہ عمل نہ صرف تجربہ گاہ میں بلکہ زندہ پودوں میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مستقبل میں تمباکو کے پودوں کو بہتر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ خاص طور پر ادویات اور ویکسین کی تیاری کے لیے تاہم سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ نکوٹین ایک نشہ آور مادہ ہے جو مصنوعات کو آلودہ بھی کرسکتا ہے۔
تحقیق سے یہ امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں ایسے پودے تیار کیے جاسکیں گے جن میں نکوٹین کی مقدار کم یا ختم کی جاسکے، اگرچہ اس سے پودے کی نشوونما متاثر ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اس دریافت نے نہ صرف ایک پرانا سائنسی راز حل کیا بلکہ بائیو ٹیکنالوجی کے نئے دروازے بھی کھول دیے، جہاں تمباکو کے پودے کو صرف تمباکو نوشی کے بجائے طبی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جاسکیں گے۔




















