Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پیٹرولیم ڈیلرز کی حکومت کو 48 گھنٹے کی مہلت، کمیشن میں اضافہ نہ ہوا تو ملک گیر فیصلہ ہو گا

اگر فوری ریلیف نہ دیا گیا تو موجودہ حالات میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا

پیٹرولیم ڈیلرز نے کمیشن میں اضافے کے مطالبے پر حکومت کو 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وزیر پیٹرولیم کی جانب سے دو روز کے اندر مثبت جواب نہ ملا تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس کے مستقبل سے متعلق بڑا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ کمیشن پر پیٹرول پمپس چلانا ناممکن ہو چکا ہے اور ڈیلرز شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق بڑھتے ہوئے اخراجات، کم منافع اور کاروباری مشکلات کے باعث متعدد ڈیلرز کے لیے اپنے کاروبار کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

چیف ایڈوائزر پی پی ڈی اے کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز آج وزیر پیٹرولیم کو کمیشن میں اضافے کے حوالے سے حتمی خط ارسال کریں گے۔ اگر حکومت نے فوری توجہ نہ دی تو ایسوسی ایشن کی 30 رکنی کمیٹی آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

پی پی ڈی اے کے چیئرمین عبد السمیع خان نے کہا ہے کہ دو روز میں حکومتی جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں حتمی اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر پیٹرولیم کراچی کا دورہ کر کے زمینی حقائق، ڈیلرز کو درپیش مسائل اور مالی نقصانات کا خود جائزہ لیں۔

دوسری جانب پیٹرولیم سیکٹر کو اسمگل شدہ ایندھن کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی شدید تشویش لاحق ہے۔ ڈیلرز کے مطابق ملک بھر میں ڈیزل کی فروخت تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ غیر قانونی اور اسمگل شدہ ایندھن مارکیٹ پر حاوی ہوتا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک کی پانچ بڑی ریفائنریز بھی پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ پر حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کر چکی ہیں۔ ریفائنریز نے خبردار کیا ہے کہ ڈیزل کی فروخت میں مسلسل کمی کے باعث ذخیرہ گاہوں میں جگہ ختم ہونے کے قریب ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران حکومت کی درخواست پر انہوں نے بھرپور تعاون کیا تاہم اب وہ خود سنگین مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جنگی صورتحال اور مارکیٹ کے دباؤ نے کاروباری سرمایہ تیزی سے کم کر دیا ہے۔

ڈیلرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ اگر فوری ریلیف نہ دیا گیا تو موجودہ حالات میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا جس کے اثرات ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔