Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

موبائل ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کا نیا دور شروع؛ سام سنگ کا گلیکسی ایس 26 متعارف

سام سنگ نے نظام میں ایسے فیچرز شامل کیے ہیں جو صارف کے روزمرہ استعمال کے مطابق خود تجاویز فراہم کریں گے۔

موبائل ورلڈ کانگریس 2026 میں سام سنگ نے اپنی نئی گلیکسی ایس 26 سیریز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے اسمارٹ فون ٹیکنالوجی میں ایک نئے دور کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق گلیکسی ایس 26 سیریز اس کی تیسری نسل کا ایسا فون ہے جو صرف صارف کے حکم پر ردعمل دینے کے بجائے اس کے ارادوں کو سمجھ کر خودکار انداز میں کام کرے گا۔

اس نظام میں ایسے فیچرز شامل کیے گئے ہیں جو صارف کے روزمرہ استعمال کے مطابق خود تجاویز فراہم کریں گے۔

نئے فیچرز میں ایک نظام شامل ہے جو رابطے کے دوران ضرورت کے مطابق صارف کی گیلری سے تصاویر خود بخود تجویز کرتا ہے جب کہ ایک اور فیچر روزانہ صبح صارف کے شیڈول اور عادات کے مطابق مکمل معلوماتی خلاصہ فراہم کرتا ہے۔

گلیکسی ایس 26 الٹرا میں پہلی بار ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے صارف اسکرین کی مرئیت کو اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کرسکتے ہیں جس سے پرائیویسی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

کیمرا سسٹم میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں زیادہ روشنی جذب کرنے والے جدید لینز شامل ہیں تاکہ رات کے وقت اور زوم کے دوران بہتر تصاویر حاصل کی جا سکیں۔ اس کے ساتھ نائٹ موڈ اور اسٹیبلائزیشن ٹیکنالوجی میں بھی بہتری کی گئی ہے۔

نئے فون میں مصنوعی ذہانت پر مبنی فوٹو ایڈیٹنگ فیچرز بھی شامل ہیں جن کے ذریعے صارف تصاویر کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرسکتے ہیں جیسے دن کی تصویر کو رات کے منظر میں بدلنا۔

اسی طرح ایک اور فیچر تصاویر کو آرٹ، اسٹیکر یا وال پیپر میں تبدیل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

سام سنگ نے صرف اسمارٹ فونز ہی نہیں بلکہ اپنی پوری ڈیجیٹل مصنوعات کی رینج میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کو بھی پیش کیا ہے جس میں اسمارٹ گھڑیاں، ایئر بڈز، ٹیبلیٹس اور لیپ ٹاپس شامل ہیں تاکہ تمام ڈیوائسز ایک مربوط نظام کے تحت کام کرسکیں۔

کمپنی نے صنعتی سطح پر بھی مکمل خودکار نظام کی طرف پیش رفت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 2030 تک فیکٹریوں کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں بھی سام سنگ نے ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے نیٹ ورک خودکار طور پر چل سکیں گے اور 2027 تک مکمل خودمختار نیٹ ورکنگ کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں