اسلام آباد: پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں بڑھ کر 34 ارب 75 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ بیرونی تجارت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں کمی جب کہ درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات نے بتایا کہ جولائی سے مئی تک کے عرصے میں ملکی برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زائد رہیں جب کہ اسی مدت کے دوران درآمدات کا حجم 62 ارب 66 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہا۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں برآمدات میں 5.61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ درآمدات میں 5.94 فیصد اضافہ ہوا۔
گزشتہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں برآمدات 29 ارب 56 کروڑ ڈالر سے زائد اور درآمدات 59 ارب 14 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہی تھیں۔
ماہ مئی میں اپریل کے مقابلے میں برآمدات میں 9.59 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جو بیرونی تجارت کے شعبے میں ایک مثبت پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
دوسری جانب مئی کے دوران اپریل کے مقابلے میں درآمدات میں 21.55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس سے ماہانہ بنیادوں پر درآمدی دباؤ میں کچھ کمی دیکھی گئی۔
سالانہ بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو رواں مالی سال کے مئی میں گزشتہ مالی سال کے مئی کے مقابلے میں برآمدات میں 1.26 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اسی عرصے میں درآمدات میں 6.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مئی کے مہینے میں برآمدات اور درآمدات کے بعض اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی تاہم مجموعی طور پر رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔


















