Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈریگن فلائی اور مکڑی کی نئی اقسام دریافت

دنیا میں پودوں اور حشرات کی تقریباً 8.7  ملین اقسام موجود ہیں، جن میں سے سائنس نے صرف 1.5 ملین کی شناخت کی ہے

سائنسدانوں نے افریقہ کے دور دراز اور ناقابلِ رسائی جنگلات میں ڈریگن فلائی اور مکڑی کی متعدد نئی اقسام دریافت کی ہیں۔

وائلڈ نیس پروجیکٹ کی جانب سے انگولا کے لِسِما سطح مرتفع پر کیے گئے سائنسی سروے میں ڈریگن فلائی کی 8 نئی اقسام دریافت کی گئی ہیں جبکہ اسی حالیہ مہم کے دوران سائنسدانوں نے دو انتہائی حیران کن مکڑیاں بھی دریافت کی ہیں۔

شکار کیڑے جیسی مکڑی

یہ مکڑی خون جیسی نارنجی رنگت رکھتی ہے اور زہریلے کیڑوں کی نقل کر کے شکاریوں کو دور رکھتی ہے۔

چمکیلی مکڑی

یہ کراؤنڈ کریب اسپائیڈر الٹرا وائلٹ روشنی میں نیلی رنگت میں چمکتی ہے۔

وائلڈ لائف کے ماہرین نے  تقریباً 60 نئی تتلیوں اور پتنگوں کو بی دریافت کیا ہے جن کے رنگ حیران کن طور پر روشن اور انتہائی خوشنما تھے۔

تاہم ٹڈیوں کی نئی اقسام کافی دلچسپ ہیں یہ دیکھنے میں یہ خاصی ڈراؤنی معلوم ہوتی ہیں اگر کوئی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اپنی حفاظت کے لیے مائع پھینک سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا بھر کے سائنسدان تیزی سے نئی اقسام کی دریافت اوران کا ڈیٹا جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ عالمی ماحولیاتی بحران کے نتیجے میں ایک لاکھ پودوں اور حیوانات کی اقسام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا میں پودوں اور حشرات کی تقریباً 8.7  ملین اقسام موجود ہیں، جن میں سے سائنس نے صرف 1.5 ملین کی شناخت کی ہے۔

ان میں سے بہت سی اقسام انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے تیزی سے ختم ہو رہی ہیں اور 1500 کے بعد سے 800 سے زیادہ جانور کی اقسام معدوم ہو چکی ہیں۔

 لِسیما پلیٹو کی وائلڈ لائف درختوں کی کٹائی، جنگلات کی تباہی اور ہیرے کی کان کنی کی صنعت کے ساتھ ساتھ آتش زنی کے ذریعے زراعت سے بھی خطرے میں ہے جس میں قدرتی جنگلات کا صفایا کر کے فصلیں اگائی جاتی ہیں۔