Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

صدی کا نایاب طوطا ایک بار منظرعام پر

یہ چھوٹا پرندہ صرف بورو آئس لینڈ پرہی پایا جاتا ہے

گزشتہ ایک صدی سے بلیو فرنٹڈ لوریکیٹ نامی طوطا انڈونیشیا کے سب سے پراسرار اور نایاب پرندوں میں شمارکیا جاتا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نایاب پرندہ کی موجودگی کا ثبوت صرف 2014 کی ایک تصویر اور عجائب گھروں میں محفوظ چند نمونے ہیں تاہم ماہرین پر امید تھے کہ یہ مکمل طور پر معدوم نہیں ہوا ہوگا۔

 کئی دنوں تک نوکیلے چونے کے پتھروں، کاٹنے والے کیڑوں اور دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرنے کے بعد جزیرہ بورو کی بلند ترین چوٹی پر سبز پروں کی ایک جھلک نے ثابت کر دیا کہ یہ رنگ برنگا طوطا اب بھی زندہ ہے۔

یہ چھوٹا پرندہ صرف بورو آئس لینڈ پرہی پایا جاتا ہے جبکہ اپریل میں ایک انڈونیشیائی کوہ پیمائی گروپ کی قیادت میں ہونے والی مہم کے دوران اسے دیکھا گیا۔

The Blue-fronted Lorikeet in the highlands of Mount Kapalatmada in Buru

 ٹیم نے 12 سال بعد پہلی بار اس پرسرار پرندے تصاویرلینے کے ساتھ آواز کی پہلی بار بھی ریکارڈنگ بھی کی۔

اس طوطے کے چمکدار سبز رنگ، نارنجی چونچ، سر کے پچھلے حصے پر نیلا رنگ اور نوکیلی دم نے ٹیم کو اس کی شناخت میں مدد دی۔

اس طوطے کی پہلی سائنسی شناخت 1920 کی دہائی میں جمع کیے گئے سات نمونوں کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ اس کے بعد تقریباً 90 سال تک اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا، یہاں تک کہ 2014 میں اس کی ایک تصویر سامنے آئی تھی۔

ماہرین کو طویل عرصے سے شبہ تھا کہ یہ پرندہ معدوم نہیں ہوا بلکہ پہاڑوں کی زیادہ بلندیوں پر رہتا ہے جہاں انسانوں کی رسائی بہت مشکل تھی۔ حالیہ برسوں میں مقامی کوہ پیماؤں نے ان پہاڑوں تک پہنچنے کا راستہ دریافت کیا، جس کے بعد یہ مہم ممکن ہو سکی۔