Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے ہوگیا، وزیراعظم کا اعلان

معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی اور تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا جائے گا

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی مراحل پر مشتمل اہم بات چیت کے بعد ایک تاریخی امن معاہدہ طے ہوا ہے جس پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے۔

انہوں نے اس پیش رفت میں قطر، سعودی عرب اور ترکیے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فریقین نے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے تاہم معاہدے میں لبنان سمیت دیگر علاقائی محاذوں پر بھی کارروائیوں کے خاتمے کی شقیں شامل ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ہے اور اس پر امریکا اور ایران دونوں قابلِ تعریف ہیں۔

 انہوں نے قطر کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا جس نے اس عمل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ معاہدے کے بعد ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک اس ہفتے متعدد ملاقاتوں کی میزبانی کریں گے جو تکنیکی مذاکرات اور دستخطی تقریب کی تیاریوں کا حصہ ہوں گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل ہوگیا ہے جسے میں نے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی اور تجارتی جہازوں کے لیے کھول دیا جائے گا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔

عالمی برادری کا خیرمقدم

اقوام متحدہ سمیت یورپی ممالک نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک کو معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم تنازعات کے پرامن حل کی طرف ایک مثبت پیش رفت ہے۔

دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے بھی مشترکہ بیان میں اس مفاہمت کا خیرمقدم کیا ہے۔

یورپی ممالک کی جانب سے کہا گیا کہ اگر ایران کی جانب سے قابلِ تصدیق اقدامات کیے جاتے ہیں تو پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں