Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بجٹ میں ہم نے ایکسپورٹ اور ٹیکس کے نظام کے لیے کام کیا، وزیر خزانہ

پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ میں ہم نے ایکسپورٹ اور ٹیکس کے نظام کے لیے کام کیا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے اور ٹیکس کے بوجھ میں کمی لانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے کم ٹیکس سلیب میں شرح کو 5 فیصد سے کم کرکے 1 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ 15 فیصد ٹیکس سلیب کو کم کرکے 13 فیصد کردیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ بجٹ حکومت کے ترقیاتی وژن کی عکاسی کرتا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ اسے کاروبار دوست بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ تعمیرات کا شعبہ معاشی نمو میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کے لیے 262 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 125 ارب روپے زرعی شعبے کے قرضوں کے لیے رکھے گئے ہیں، زرعی شعبے کے لیے بھی متعدد سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کا حجم 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ زرعی شعبے میں ویلیو ایڈڈ سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف ٹیکسز ختم کیے گئے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ کسٹمز کے نظام میں شفافیت لانے اور صوابدیدی اختیارات کم کرنے کے لیے اسے ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ حکومت میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ مستقبل میں سپر ٹیکس کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہونی چاہیے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی پالیسی برآمدات پر مبنی معاشی نمو کو فروغ دینا ہے اسی مقصد کے تحت بجٹ میں ایکسپورٹ سیکٹر اور ٹیکس نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کی ہے جبکہ رواں سال معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ آئی ٹی برآمدات مالی سال کے اختتام تک 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔