بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 5 افراد کو شہید کردیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا اور وہ مزدوری کے سلسلے میں بلوچستان میں موجود تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے ان دکانوں کو نشانہ بنایا جہاں پنجابی مزدور کام کر رہے تھے۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے، جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ضروری کارروائی کے بعد جاں بحق افراد کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کی جا رہی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے معصوم اور نہتے مزدوروں کو نشانہ بنایا۔ شہید ہونے والے مزدوروں میں محمد بلال، محمد حسن، محمد قدیر، محسن اور بلال شامل ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام شہداء کا تعلق پنجاب سے تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنے والے دہشت گرد اب معصوم شہریوں اور سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے نسلی بنیادوں پر شہریوں کو نشانہ بنا کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ماہرین نے ماضی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل کراچی سے تفریح کے لیے کوئٹہ آنے والی ایک فیملی کو بھی اسی فتنے نے نشانہ بنایا تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا ردعمل
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ماشکیل میں بے گناہ مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہید ہونے والے صرف پنجابی مزدور نہیں تھے بلکہ وہ پاکستان کے شہری اور ہمارے بھائی تھے۔
انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں پر حملہ کسی ایک صوبے یا قومیت کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کی وحدت، آئین اور ریاست پر حملہ ہے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ آزادی کی نام نہاد تحریک کا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد اپنے مکروہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب کر چکے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی مذمت
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واشک کے علاقے ماشکیل میں مزدوروں پر حملے کی شدید مذمت کی۔
محسن نقوی نے 5 مزدوروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم اور نہتے محنت کشوں کو نشانہ بنا کر بربریت کا مظاہرہ کیا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ غم کی اس گھڑی میں حکومت شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام تر ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا سخت ردعمل
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واشک کے علاقے ماشکیل میں 5 بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم اور نہتے مزدوروں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور بزدلانہ فعل ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے انسانیت سوز جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم کے لیے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم ایسے بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ہر شہری کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کا ردعمل
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں مزدوروں پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔
صدر نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔
صدر زرداری نے کہا کہ معصوم شہریوں اور محنت کش مزدوروں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہے۔ ایسے بزدلانہ حملے قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
صدرِ مملکت نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔















