ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران نے کبھی جنگ کو خوش آمدید نہیں کہا اور نہ ہی اب ایسا چاہتا ہے تاہم قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مذاکرات اور جنگ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قومی مفادات کے حصول کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے جبکہ موجودہ مرحلے میں مذاکرات کسی سمجھوتے کا نام نہیں بلکہ مزاحمت اور قومی مفادات کے تحفظ کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
ایرانی اسپیکر نے کہا کہ ایران کو ہمیشہ جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی کا ایک اہم حصہ آبنائے ہرمز پر ایرانی انتظامات برقرار رکھنے سے وابستہ ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ دشمن کی جارحیت کے مقابلے کے لیے ایرانی مسلح افواج کو ہمیشہ کی طرح مکمل آزادی حاصل ہے اور وہ ملک کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہیں گی۔




















