Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سعودی ریگستان میں نایاب جاندار پھر زندہ ہوگیا، سنہری چھپکلی نے سب کو حیران کر دیا

یہ چھپکلیاں ریت کے نیچے موجود شکار کی حرکت اور ارتعاش کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں

سعودی عرب کے صحراؤں میں ایک نایاب اور معدوم سمجھی جانے والی سنہری چھپکلی دوبارہ منظر عام پر آگئی ہے، جسے ماہرین قدرتی ماحول کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں چھپکلیوں کی تقریباً 11 اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سینڈ فش، اسپاٹڈ سینڈ لیزرڈ اور گولڈن لیزرڈ شامل ہیں۔ ان میں سنہری چھپکلی کی نسل ماضی میں بڑے پیمانے پر شکار کے باعث معدوم ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی تاہم اب اسے سعودی صحرا کے مختلف علاقوں میں دوبارہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق سنہری چھپکلی اپنے ہموار جسم، چمکدار جلد اور منفرد ساخت کی وجہ سے ریتلے علاقوں میں آسانی سے گھل مل جاتی ہے۔ یہ چھپکلیاں صحرائی ٹیلوں، نخلستانوں اور کھلے میدانوں میں اپنا مسکن بناتی ہیں۔

یہ رینگنے والے جانور تقریباً 14 سینٹی میٹر تک لمبے ہو سکتے ہیں اور ڈھیلی ریت میں حرکت کے لیے اپنے پنجہ نما اعضاء اور نوکیلی ناک کا استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مشہور سینڈ فش چھپکلی شکاریوں اور شدید صحرائی گرمی سے بچنے کے لیے ریت کے اندر تقریباً 40 سینٹی میٹر تک گہرے بل بنا لیتی ہے۔

یہ چھپکلیاں ریت کے نیچے موجود شکار کی حرکت اور ارتعاش کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی خوراک میں کیڑے مکوڑے، مکڑیاں اور پودوں کے اجزا شامل ہیں جس سے یہ صحرائی ماحولیاتی نظام میں کیڑوں کی تعداد کو متوازن رکھنے اور قدرتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہری چھپکلی کی دوبارہ موجودگی سعودی صحرا کے قدرتی ماحول کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔

متعلقہ خبریں