ماہرین نے شہد کی مکھیوں کے دماغ پر تحقیق کے دوران یہ جاننے میں کامیابی حاصل کرلی ہے کہ وہ کسی مرکزی منصوبہ بندی کے بغیر اپنے درمیان کام کیسے تقسیم کرتی ہیں۔
جرمنی کی مختلف جامعات کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھیوں کے دماغ میں موجود ایک مخصوص جین ان کے مختلف کاموں کی تقسیم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
محققین نے اس جین کی سرگرمی کو محدود کرکے مکھیوں کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھی۔
تحقیق کے مطابق عام حالات میں کم عمر مزدور مکھیاں ملکہ اور بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، اس کے بعد چھتے کی تعمیر اور حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں جب کہ عمر بڑھنے پر خوراک کی تلاش کے لیے چھتے سے باہر نکلتی ہیں۔
ماہرین نے جب دماغ کے مخصوص اعصابی حصوں کی سرگرمی کو عارضی طور پر روکا تو بڑی عمر کی مکھیاں دوبارہ وہی ذمہ داریاں انجام دینے لگیں جو عموماً صرف کم عمر مکھیاں انجام دیتی ہیں۔
جب ان حصوں کی سرگرمی بحال ہوئی تو مکھیاں اپنی عمر کے مطابق معمول کے فرائض انجام دینے لگیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہد کی مکھیوں میں کام کی تقسیم کا نظام دماغ کے مختلف اعصابی حصوں کے باہمی رابطے سے چلتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ دریافت اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ شہد کی مکھیاں اور دیگر سماجی جانور کسی مرکزی نگرانی کے بغیر بھی باہمی تعاون کے ساتھ اپنے فرائض مؤثر انداز میں کیسے انجام دیتے ہیں۔




















