Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کہکشاں میں نظر آنے والا دیوہیکل ڈھانچہ کیا ہے؟ 40 برس پرانا خلائی معمہ حل

یہ دیوہیکل خلائی ڈھانچہ زمین سے تقریباً 6 ہزار 500 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔

ماہرین فلکیات نے تقریباً 40 برس سے معمہ بنے ایک دیوہیکل خلائی ڈھانچے کی حقیقت جاننے کا دعویٰ کردیا۔

جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی محقق کیتھرین کریکل کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ دیوہیکل ساخت زمین سے تقریباً 6 ہزار 500 نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک بند گول دائرے کی شکل رکھتی ہے۔

اس دریافت نے کئی دہائیوں سے رائج اس تصور کو مسترد کردیا ہے کہ یہ ڈھانچہ لاکھوں برس قبل کہکشاں کے مرکز میں ہونے والے کسی عظیم دھماکے یا انتہائی بڑے سیاہ شگاف کی سرگرمی کا نتیجہ تھا۔

محققین کے مطابق اس ساخت کا اصل حجم بھی پہلے کے اندازوں سے کہیں کم ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ گیس کا ایک بہت بڑا غبارہ ہے جسے ماضی میں وجود میں آنے والے بڑے ستاروں کی سرگرمیوں نے تشکیل دیا اور بعد ازاں شدید بالائے بنفشی شعاعوں نے اسے روشن کردیا۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے مختلف اقسام کی روشنی کا جائزہ لے کر گیس اور گرد و غبار کے نقشوں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔

خاص طور پر سرخی مائل شعاعوں نے اس ساخت کا وہ حصہ بھی نمایاں کردیا جو پہلے گرد و غبار کی وجہ سے نظر نہیں آرہا تھا جس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک کھلا ڈھانچہ نہیں بلکہ مکمل بند دائرہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ساخت تقریباً 115 نوری سال چوڑی ہے اور غالب امکان ہے کہ اسے ماضی میں وجود میں آنے والے دیوقامت ستاروں کے دھماکوں نے تشکیل دیا۔

ایسے دھماکے اپنے گرد موجود گیس اور گرد و غبار کو دور دھکیل دیتے ہیں جس کے بعد نئے ستاروں کی پیدائش کا عمل شروع ہوتا ہے اور ان کی شعاعیں گیس کو روشن کردیتی ہیں۔

محققین کے مطابق اس دریافت نے نہ صرف چار دہائیوں پر محیط ایک خلائی معمہ حل کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ ہماری کہکشاں میں موجود کئی نمایاں ساختیں اپنی اصل حقیقت کو گرد و غبار اور روشنی کی پیچیدگیوں کے باعث چھپا لیتی ہیں جس سے انہیں درست طور پر سمجھنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔