دنیا میں سب سے کم آلودگی والے ملک کا نام لیا جائے تو بھوٹان نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ وہاں کی ماحول دوست پالیسیاں، جنگلات کا تحفظ اور لوگوں میں قدرتی ماحول کے بارے میں شعور ہے۔
ماحول کے تحفظ کے لیے مضبوط پالیسیاں
بھوٹان نے اپنے قدرتی ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت سخت اور مؤثر پالیسیاں بنائی ہیں۔ وہاں کے وزیراعظم شیرنگ توبگے کے مطابق، بھوٹان کے لوگ قدرت کے بہت قریب ہیں۔ ملک کی ترقی میں عوام کی خوشی، آنے والی نسلوں کی فلاح، ثقافت اور ماحول کا تحفظ بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ہمالیہ کے درمیان ایک خوبصورت ملک
بھوٹان چین اور بھارت کے درمیان ہمالیہ کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ یہاں بلند پہاڑ، خوبصورت وادیاں، گھنے جنگلات اور مختلف قسم کے جانور اور پودے پائے جاتے ہیں۔ بعض پہاڑی علاقے سطح سمندر سے تقریباً 7,500 میٹر تک بلند ہیں۔
72 فیصد علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے
بھوٹان کی تقریباً 72 فیصد زمین جنگلات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ ان جنگلات کا ایک بڑا حصہ محفوظ علاقوں، قومی پارکوں اور جنگلی حیات کے لیے مخصوص علاقوں میں شامل ہے۔
بھوٹان کے آئین میں بھی ماحول کے تحفظ کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ آئین کے مطابق ملک کے کم از کم 60 فیصد رقبے پر جنگلات برقرار رکھنا ضروری ہے۔
کاربن نیگیٹو ملک
بھوٹان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ کاربن نیگیٹو ملک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھوٹان جتنی گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتا ہے، اس سے زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اپنے جنگلات کے ذریعے جذب کر لیتا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق، بھوٹان کے جنگلات ملک کی جانب سے خارج کی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے تقریباً پانچ گنا زیادہ کاربن جذب کرتے ہیں۔
پیرس معاہدے کے اہداف
بھوٹان نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے 2015 کے پیرس معاہدے کے موسمیاتی اہداف پر عمل کرنے کے لیے مضبوط اقدامات کیے ہیں۔
ماحول کا تحفظ آئین میں شامل ہے
بھوٹان نے 2008 میں اپنا نیا آئین نافذ کیا۔ اس آئین میں قدرتی ماحول اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ قدرت اور جنگلات کی حفاظت کریں۔
قدرت، ثقافت اور مذہب
بھوٹان میں ماحول کا تحفظ صرف حکومتی پالیسی نہیں بلکہ وہاں کی ثقافت اور مذہب کا بھی حصہ ہے۔ بہت سے بھوٹانی لوگ قدرت کو مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے عقائد میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ قدرتی ماحول میں روحانی طاقتیں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے پہاڑوں، جنگلات، دریاؤں اور جانوروں کا احترام کیا جاتا ہے۔
دوسرے ممالک کے ساتھ ماحولیاتی تعاون
بھوٹان اب اپنی ماحول دوست پالیسیوں کو دوسرے ممالک کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہتا ہے۔ 2024 میں آذربائیجان میں ہونے والی COP29 کانفرنس کے دوران بھوٹان نے پاناما، سورینام اور مڈغاسکر کے ساتھ ماحولیاتی تعاون کے لیے اتحاد بنانے میں کردار ادا کیا۔
مستقبل کا بڑا چیلنج
اگرچہ بھوٹان ماحول کے تحفظ کے لیے بہت اچھا کام کر رہا ہے، لیکن مستقبل میں اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ملک کی آبادی اور معیشت بڑھ رہی ہے، اس لیے صنعت، گاڑیوں اور دیگر شعبوں کو زیادہ صاف اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کرنا ضروری ہوگا۔
پن بجلی کی اہمیت
بھوٹان میں بجلی کا زیادہ تر حصہ پانی سے پیدا ہونے والی پن بجلی سے حاصل ہوتا ہے۔ ملک کی پیدا ہونے والی بجلی کا 95 فیصد سے زیادہ حصہ ہائیڈرو پاور سے آتا ہے۔ اس بجلی کا ایک بڑا حصہ دوسرے ممالک کو فروخت بھی کیا جاتا ہے، جس سے بھوٹان کو آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
یونیسکو کا محفوظ علاقہ
بھوٹان اپنے ملک میں اپنی پہلی یونیسکو بائیوسفیئر ریزرو قائم کرنے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔ اس سے قدرتی ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق، تعلیم اور مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا اثر
اتنی کوششوں کے باوجود بھوٹان موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ نہیں ہے۔ وہاں کے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور ملک کو سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بھوٹان کا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں بھی اس کے ماحول کو متاثر کرتی ہیں، حالانکہ خود بھوٹان عالمی آلودگی میں بہت کم حصہ ڈالتا ہے۔
دنیا کے لیے بھوٹان کا پیغام
بھوٹان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے زیادہ ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ انہیں اپنی آلودگی کم کرنی چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کو صاف ٹیکنالوجی، مالی مدد اور دیگر وسائل فراہم کرنے چاہییں تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بہتر طریقے سے نمٹ سکیں۔
مختصر یہ کہ بھوٹان ایک ایسا ملک ہے جہاں قدرت، جنگلات، صاف توانائی اور ماحول کا تحفظ زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے اسے دنیا کے سب سے صاف، سرسبز اور ماحول دوست ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔




















