Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یہ آسان عادات شادی شدہ زندگی کو زیادہ خوشگوار بنا سکتی ہے

میاں بیوی اگر ایک ساتھ خوشگوار سرگرمیوں میں حصہ لیں تو ان کے درمیان قربت اور تعلق مضبوط ہو سکتا ہے

میاں بیوی کے درمیان تعلقات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے کبھی یہ دونوں بہترین دوست ہوتے ہیں تو کبھی معمولی تلخی ان میں دوری کا سبب بن جاتی ہے تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کا ایک ساتھ تھوڑی دیر پیدل چلنا انہیں بہتر گفتگو کرنے، ایک دوسرے کے قریب آنے اور اختلافات کو بہتر طریقے سے حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

برگھم ینگ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ نوجوان شادی شدہ جوڑے جو ایک ساتھ چہل قدمی کرتے ہیں وہ عام طور پر ایک دوسرے سے بہتر گفتگو کرنے کے ساتھ اختلافات کو بہتر انداز میں حل کرتے ہیں اور ازدواجی زندگی میں کم ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میاں بیوی نے ایک ساتھ ورزش کی تو اس کے مثبت اثرات اکیلے ورزش کرنے کے مقابلے میں زیادہ نظر آئے۔

یہ تحقیق تقریباً 1,700 شادی شدہ جوڑوں کے ڈیٹا پر کی گئی اور اس کے نتائج تحقیقی جریدے فیملی ریلیشنز میں شائع ہوئے۔ یہ جوڑے امریکہ بھر سے اس طویل مدتی تحقیق کا حصہ تھے جس میں نئی شادی شدہ جوڑوں کی زندگی کا کئی سالوں سے جائزہ لیا جا رہا تھا۔

ایک ساتھ ورزش، بہتر گفتگو

پروفیسر جیریمی یورگاسن اور ان کی ساتھی محقق ایشلن ہیاٹ ملڈن ہال نے اس تحقیق میں یہ دیکھا کہ اکیلے ورزش کرنے اور میاں بیوی کے ساتھ مل کر ورزش کرنے کا شادی شدہ زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شادی شدہ جوڑوں کے درمیان عمر کا فرق کتنا؟ تحقیق کیا کہتی ہے

تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک ساتھ ورزش کرنے والے جوڑے اپنے مسائل اور اختلافات کو زیادہ پُرامن طریقے سے حل کرنے کے قابل تھے جبکہ ان میں ایک دوسرے سے بات چیت اور اختلافات حل کرنے کے حوالے سے بھی بہتر نتائج دیکھے گئے۔

تقریباً 60 فیصد شوہروں اور بیویوں نے بتایا کہ وہ ورزش کرتے ہیں لیکن صرف تقریباً ایک تہائی لوگ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ ورزش کرتے تھے۔ یعنی بہت سے لوگ ورزش تو کرتے ہیں لیکن اپنے شریکِ حیات کے ساتھ نہیں کرتے۔

محققین کے مطابق اس عادت کا اثر بہت بڑا نہ بھی ہو لیکن مختلف جوڑوں میں اس کا اثر مسلسل ایک جیسا نظر آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ساتھ ورزش کرنا ازدواجی تعلقات پر واقعی کچھ مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

پیدل چلنا سب سے آسان سرگرمی

تحقیق میں ایک سرگرمی خاص طور پر نمایاں ہوئی: پیدل چلنا۔

جوڑوں میں ایک ساتھ ورزش کرنے کی سب سے عام سرگرمی واک کرنا تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پیدل چلتے ہوئے میاں بیوی آسانی سے ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں۔

بہت سی ورزشوں کے دوران انسان کی پوری توجہ ورزش پر ہوتی ہے لیکن واک کے دوران بات چیت کرنا آسان ہوتا ہے۔ اس لیے میاں بیوی اپنے دن، مسائل، احساسات اور دوسری باتوں پر سکون سے گفتگو کر سکتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جو جوڑے ایک ساتھ ورزش کرتے تھے، ان میں یہ احساس زیادہ تھا کہ ان کا شریکِ حیات ان کی بات سنتا ہے، انہیں سمجھتا ہے اور ان کا ساتھ دیتا ہے۔

ایک ساتھ وقت گزارنا تعلق مضبوط کر سکتا ہے

محققین کے مطابق یہ نتائج دوسری ایسی تحقیقات سے بھی مطابقت رکھتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی اگر ایک ساتھ خوشگوار سرگرمیوں میں حصہ لیں تو ان کے درمیان قربت اور تعلق مضبوط ہو سکتا ہے۔

ضروری نہیں کہ جوڑے جم جائیں یا مہنگی ورزش کا سامان خریدیں۔ ایک ساتھ ورزش کرنے کے لیے کسی خاص جگہ یا مشکل روٹین کی بھی ضرورت نہیں۔

کبھی کبھی صرف شام کو میاں بیوی کا ایک ساتھ 20 یا 30 منٹ پیدل چلنا، راستے میں باتیں کرنا اور ایک دوسرے کی بات سننا ہی کافی ہو سکتا ہے۔

سادہ الفاظ میں اگر میاں بیوی ایک ساتھ تھوڑی سی واک کریں تو اس سے نہ صرف صحت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ ایک دوسرے سے بات چیت، سمجھ بوجھ اور ازدواجی تعلق بھی بہتر ہو سکتا ہے۔