جرمنی کے فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر طیارے کے ذریعے آنے والے ایک مچھر سے مبینہ طور پر ملیریا پھیلنے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے 2 ملازمین جان کی بازی ہار گئے۔
شہر کے محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ ملازمین میں سے پہلے ایک کی موت کی اطلاع سامنے آئی تھی، تاہم بعد ازاں دوسرا ملازم بھی دم توڑ گیا۔ مجموعی طور پر 6 ملازمین میں ملیریا کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں سے 4 اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایک طیارے کے ذریعے جرمنی پہنچنے والا اینوفیلس مچھر اس وبا کی ممکنہ وجہ ہے۔ حکام نے احتیاطی اقدامات کے طور پر ایئرپورٹ میں مچھروں کے پھندے بھی نصب کردیئے ہیں۔
متاثرہ افراد کے خون کے نمونوں میں موجود ملیریا کے جراثیم کا مزید تجزیہ بیلجیم کے شہر اینٹورپ میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میڈیسن کرے گا۔
رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق جرمنی میں ایئرپورٹ سے منسلک ملیریا کا آخری پھیلاؤ 2023 میں سامنے آیا تھا۔ اس بیماری کے انتہائی نایاب ہونے کے باعث بعض اوقات اس کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی، جس سے شدید علامات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ملیریا اینوفیلس مچھر کے ذریعے پھیلنے والے جراثیم سے ہوتا ہے اور اس کی عام علامات میں متلی، سر درد، تیز بخار اور شدید سردی لگنا شامل ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج کی صورت میں مریض عموماً مکمل صحت یاب ہوجاتا ہے، تاہم دنیا بھر میں یہ بیماری ہر سال لاکھوں افراد کو متاثر اور بڑی تعداد میں اموات کا سبب بنتی ہے۔




















