نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد لاشوں کو سنبھالنا اور ان کی شناخت کرنا حکام کے لیے ایک نیا بڑا چیلنج بن گیا ہے متعدد لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ کر دور دراز اضلاع تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کے مطابق سیلابی پانی کئی لاشوں کو بہا کر زیریں علاقوں میں واقع دور دراز اضلاع تک لے گیا جس کے باعث جاں بحق افراد کی شناخت اور لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کا عمل انتہائی مشکل ہونے کا خدشہ ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق چتوان میں 221 لاشیں ملی ہیں جو دارالحکومت کٹھمنڈو سے تقریباً 299 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے جبکہ نوالپراسی ایسٹ سے بھی 134 لاشیں برآمد ہوئی ہیں جو کٹھمنڈو سے تقریباً 321 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
چتوان کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر گنیش آریال نے بتایا کہ کئی لاشیں انتہائی خراب حالت میں ہیں، جس کے باعث ان کی شناخت اور لاشوں کو محفوظ طریقے سے رکھنے کا انتظام ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
حکام کے مطابق مقامی اسپتال کا مردہ خانہ لاشوں سے بھر چکا ہے اور مزید لاشیں رکھنے کی گنجائش نہیں رہی جس کے بعد سرکاری حکام نے لاشوں کو رکھنے کے لیے ایک سرکاری عمارت مختص کردی ہے۔
سیلابی تباہی کے بعد ریسکیو آپریشن کے ساتھ ساتھ لاشوں کی تلاش، شناخت اور متاثرہ خاندانوں تک ان کی حوالگی کا مرحلہ بھی حکام کے لیے انتہائی مشکل صورت اختیار کرگیا ہے۔


















