امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، امریکی فورسز نے ایران کے جزیرہ لارک پر فضائی حملہ کر کے پاسدارانِ انقلاب کے 2 راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب مذکورہ راکٹ لانچرز سے آبنائے ہرمز کی جانب میزائل داغنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فورسز آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملے میں متعدد ایرانی اہلکاروں اور شہریوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی گئی۔
پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ جزیرہ لارک پر امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور حملے کے ذمہ داروں کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں کی جانب میزائل داغے گئے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں پر بھی میزائل حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
تازہ پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی بدستور انتہائی حساس ہے۔



















