امریکا کی جانب سے لارک جزیرے پر فضائی حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں موجود 2 امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ’جارح کو سزا‘ کے نام سے کی جانے والی کارروائی میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات، تکنیکی اور مرمتی ڈھانچے اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کے مقامات کو نقصان پہنچا تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
🚫CLAIM: Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) claimed in a recent statement that strikes by U.S. forces to prevent the IRGC from placing mines in the Strait of Hormuz were an “act of aggression.” This claim is absolutely FALSE.
✅FACT: U.S. forces took limited,… pic.twitter.com/XLx8xNTHto
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 31, 2026
دوسری جانب امریکی فوج نے ایرانی جزیرے لارک پر کی گئی کارروائی کو جارحیت قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک محدود اور درست کارروائی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ممکنہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے خطرے کو روکنا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی کے دوران لارک آئی لینڈ پر موجود ایران کے 2 میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا تاہم یہ کارروائی بین الاقوامی بحری آمدورفت کو لاحق ممکنہ خطرے کے پیش نظر کی گئی۔



















