مغربی افریقہ میں متنازعہ علاقے مغربی صحارا میں موجود مراکشی دیوار دنیا کی سب سے طویل بارودی سرنگوں سے لیس ایک میدان کے طور پر سامنے آئی ہے یہ تقریباً 2,700 کلومیٹر طویل یہ فوجی رکاوٹ علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے اور اسے مقامی لوگ عام طور پر “دی برم” کے نام سے بھی جانتے ہیں۔
اگر اس کی ساخت کی بات کی جائے تو مراکشی دیوار ریت کے بلند پشتوں، فوجی مورچوں، تقریباً 70 لاکھ زیرِ زمین بارودی سرنگوں اور جنگ کے دوران استعمال ہونے والے غیر پھٹے ہوئے گولہ بارود پر مشتمل ہے۔
تاریخی پس منظر
1975 میں جب اسپین نے مغربی صحارا سے اپنی نوآبادیاتی حکمرانی ختم کی، تو پڑوسی ممالک موریتانیا اور مراکو نے علاقے کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران مقامی صحراوی عوام، جو 1960 کی دہائی سے آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، کی خواہشات کو نظر انداز کیا گیا۔
1976 میں صحراوی عوام نے پولی ساریو فرنٹ کے نام سے ایک آزادی پسند تحریک قائم کی اور صحراوی عرب ڈیموکریٹک ریپبلک (ایس اے ڈی آر ) کی آزادی کا اعلان کیا۔ علاقے میں مسلح تصادم شروع ہو گئے، اور 1979 میں موریتانیہ تنازع سے الگ ہو گیا، تاہم مراکش نے کنٹرول برقرار رکھا۔
دیوار کی تعمیر
مراکش نے فوجی نقصانات کے بعد 2,700 کلومیٹر طویل دفاعی دیوار تعمیر کی، جس کی تکمیل 1987 میں ہوئی۔ اس کے بعد علاقہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
مشرقی حصہ ایس اے ڈی آر کے زیرِ کنٹرول۔ مغربی اور شمالی حصے، جہاں زیادہ تر معاشی سرگرمیاں موجود تھیں، مراکش کے کنٹرول میں۔
جنگ بندی اور موجودہ صورتحال
دیوار کی تعمیر اور دیگر فوجی حکمت عملیوں کے نتیجے میں صحراوی گوریلا جنگ کی مؤثریت کم ہو گئی اور تنازع ایک تعطل کی صورت اختیار کر گیا جو آج تک جاری ہے۔ 1991 سے دیوار کے ساتھ ملحقہ علاقے میں یونائیٹڈ نیشنز کی نگرانی میں جنگ بندی نافذ ہے۔
صحراوی آزادی کے حامی اس رکاوٹ کو (وال آف شیم) کہتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق یہ ایک قوم کے دو حصوں کو جدا کرتی ہے اور اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
دیوار کے اطراف لاکھوں بارودی سرنگیں اور غیر پھٹے ہوئے اسلحے کے ذخائر موجود ہیں جو مقامی آبادی کے لیے خطرناک ہیں اور ہر سال سنگین زخمیوں اور ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں۔
مراکشی دیوار نہ صرف دنیا کا سب سے طویل مسلسل بارودی سرنگوں کا میدان ہے، بلکہ گریٹ وال آف چائنا کے بعد دنیا کی دوسری طویل ترین دیوار بھی ہے۔




















