ماہرین نے خلائی تصاویر کی مدد سے پینگوئن کے فضلے کا تجزیہ کرتے ہوئے انٹارکٹیکا کے ماحول اور سمندری حیات میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کا سراغ لگالیا۔
سائنس دانوں کی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پینگوئن کی ایک مخصوص نسل کے فضلے کے رنگ اور اس میں موجود اجزا کا خلائی تصاویر کے ذریعے جائزہ لیا گیا جس سے ان کی خوراک اور مختلف علاقوں میں آبادی کے رجحانات کا اندازہ لگایا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ پینگوئن زیادہ تر چھوٹی مچھلیاں اور جھینگا نما سمندری جاندار کھاتے ہیں۔ جھینگا نما جانداروں کی وجہ سے ان کے فضلے کا رنگ گلابی مائل رہتا ہے جو خلائی تصاویر میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
چونکہ یہ پرندے بڑی تعداد میں کالونیوں کی صورت میں رہتے ہیں، اس لیے ان کے فضلے کے نشانات دور سے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے فضلے کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جس کے بعد کئی دہائیوں پر محیط خلائی تصاویر کا جائزہ لے کر ان نتائج کا موازنہ انٹارکٹیکا میں سمندری برف کی صورتحال سے کیا گیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ مغربی انٹارکٹیکا میں پینگوئن زیادہ تر جھینگا نما سمندری جانداروں پر انحصار کرتے ہیں جب کہ مشرقی انٹارکٹیکا میں ان کی خوراک میں مچھلیوں کا حصہ زیادہ ہے۔
نتائج سے یہ بھی سامنے آیا کہ جن کالونیوں کی خوراک میں جھینگا نما جاندار زیادہ تھے، وہاں وقت کے ساتھ آبادی میں کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری برف کے پگھلنے اور پینگوئن کی خوراک میں تبدیلی کے درمیان تعلق ضرور موجود ہے تاہم اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
ماہرین کے مطابق ممکن ہے برف میں کمی کے باعث مچھلیوں کی تعداد اور دستیابی متاثر ہورہی ہو جس سے پینگوئن اپنی خوراک تبدیل کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک جمع ہونے والی خلائی تصاویر نے انہیں انٹارکٹیکا کے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع دیا ہے اور مستقبل میں یہی معلومات سمندری حیات، پینگوئن کی خوراک اور قدرتی ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر مزید تحقیق میں مددگار ثابت ہوں گی۔




















