سائنس دانوں نے کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا رنگین 2D نقشہ جاری کردیا ہے جس میں تقریباً 4 ارب ستاروں، کہکشاؤں اور دیگر فلکیاتی اجسام کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ نقشہ 56 کھرب پکسلز پر مشتمل ہے جسے دنیا بھر کے سائنس دان اور عام افراد کائنات کے مطالعے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ تاریخی نقشہ ڈی ای ایس آئی لیگیسی امیجنگ سرویز منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہے جس میں کائنات کے تقریباً 75 فیصد حصے کو دکھایا گیا ہے۔
اس نقشے کی مدد سے ماہرین فلکیات نایاب خلائی مظاہر کا مشاہدہ کرسکیں گے جن میں کشش ثقل کے باعث روشنی کا مڑنا، اچانک رونما ہونے والے ستاروں کے دھماکے اور کائنات کے بڑے راز شامل ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے سے کائنات کے دو بڑے معموں، یعنی تاریک مادے اور تاریک توانائی کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ تاریک مادہ وہ پوشیدہ مادہ ہے جو کائنات کے زیادہ تر وزن کا حصہ سمجھا جاتا ہے جب کہ تاریک توانائی کائنات کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے۔
یہ نیا نقشہ گزشتہ نقشوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے جن سے اب تک 1800 سے زائد سائنسی تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں۔
منصوبے کے ماہر ڈیوڈ شلیگل کے مطابق موجودہ دور میں فلکیاتی تحقیق کے لیے یہ معلومات بنیادی حیثیت اختیار کرچکی ہیں اور ماہرین اکثر آسمانی اجسام کے مطالعے کے لیے اسی ڈیٹا سے مدد لیتے ہیں۔
نقشہ تیار کرنے کے لیے دنیا بھر کے 160 سے زائد سائنس دانوں نے ڈیٹا جمع کیا جب کہ 20 ماہرین کی ٹیم نے حتمی معلومات مرتب کیں۔
اس میں زمین پر قائم مختلف دوربینوں سے حاصل کی گئی 2 لاکھ 63 ہزار سے زائد تصاویر کو شامل کیا گیا جب کہ خلائی مشن سے حاصل ہونے والی معلومات بھی استعمال کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نقشہ مستقبل میں آنے والی نئی دوربینوں کے لیے بھی ایک اہم حوالہ ثابت ہوگا جس کی مدد سے نئی دریافتوں میں تیزی آئے گی۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے نظام کی تربیت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ خلا سے متعلق بے شمار معلومات کا تجزیہ زیادہ تیزی سے کیا جاسکے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ نقشہ آنے والے کئی برسوں تک کائنات کا سب سے جامع 2D نقشہ رہنے کی توقع ہے جو انسان کو خلا کے راز سمجھنے میں مدد دے گا۔




















