ناسا کی خلائی گاڑی کی جانب سے مریخ کی سطح کی لی گئی ایک تصویر میں عجیب و غریب سیاہ سایہ دکھائی دیا ہے جو دیکھنے میں جیلی فش جیسی شکل کا معلوم ہوتا ہے اور اس کے نیچے لٹکے ہوئے حصے بھی نمایاں ہیں۔
یہ تصویر 20 اگست 2023 کو مریخ پر موجود ناسا کی خلائی گاڑی نے کھینچی تھی تاہم حالیہ دنوں میں دوبارہ توجہ حاصل کرنے کے بعد اس پراسرار شکل نے مریخ پر زندگی سے متعلق بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ناسا کی خلائی گاڑی مریخ کی سطح کی مسلسل تصاویر حاصل کرتی رہتی ہے، جہاں اس سے قبل بھی انسانی چہرے، ہڈیوں، پھپھوندی اور عجیب ہندسی اشکال سے مشابہت رکھنے والی چٹانیں نظر آچکی ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق مریخ پر نظر آنے والی یہ نئی ’’جیلی فش‘‘ بھی کسی جاندار یا غیر معمولی مخلوق کی موجودگی کا ثبوت نہیں بلکہ غالباً خلائی شعاعوں کے باعث کیمرے میں پیدا ہونے والا عارضی خلل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی مقام کی دو مزید تصاویر مذکورہ تصویر سے صرف 13 اور 25 سیکنڈ پہلے لی گئی تھیں لیکن ان میں یہ عجیب سایہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
ماہرین کے مطابق اس فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شکل مریخ کی سطح پر موجود کوئی مستقل چیز نہیں تھی بلکہ تصویر حاصل کرنے والے آلے میں پیدا ہونے والا ایک عارضی اثر تھا۔
خلائی شعاعیں انتہائی توانائی رکھنے والے ذرات پر مشتمل ہوتی ہیں جو مسلسل خلا سے مختلف اجرام کی جانب سفر کرتے رہتے ہیں۔ زمین کا مقناطیسی میدان اور گھنا فضائی غلاف ان میں سے بڑی تعداد کو روک لیتا ہے تاہم مریخ کے پاس عالمی سطح کا مقناطیسی میدان موجود نہیں۔
مریخ کی فضا بھی زمین کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہے جس کے باعث وہاں موجود خلائی گاڑیاں ان توانائی سے بھرپور ذرات کی زد میں زیادہ آسانی سے آجاتی ہیں۔
جب ایسے ذرات کیمرے کے حساس حصے سے ٹکراتے ہیں تو تصاویر میں عارضی دھبے، روشن لکیریں یا دیگر عجیب اثرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اثرات صرف ایک ہی تصویر میں نظر آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دستیاب تصاویر سے یہی امکان زیادہ مضبوط ہوتا ہے کہ ’’جیلی فش‘‘ جیسی نظر آنے والی شکل مریخ کی سطح پر موجود نہیں تھی بلکہ تصویر بنانے والے کیمرے میں پیدا ہوئی۔
تاہم ناسا کی متعلقہ تصویر لینے والی ٹیم کی حتمی جانچ کے بغیر اس مخصوص واقعے کی وجہ کو سو فیصد یقینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔




















