Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائنسدانوں نے پلاسٹک کے کچرے سے پروٹین سے بھرپور بسکٹ تیار کرلیا

اس ٹیکنالوجی کا مقصد ایسے پلاسٹک اور زرعی مواد کو کارآمد بنانا ہے جو عام طور پر ضائع کردیا جاتا ہے۔

امریکی سائنسدانوں نے پلاسٹک اور زرعی کچرے کو خوردنی اجزا میں تبدیل کرنے والی خمیر پر مبنی ایک نئی تکنیک تیار کرلی ہے جس کے ذریعے پروٹین سے بھرپور بسکٹ تیار کیے گئے ہیں۔

یہ تحقیق امریکی کیمیائی سوسائٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی جب کہ جنوبی الینوائے یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے تیار کی گئی اس ٹیکنالوجی کا مقصد ایسے پلاسٹک اور زرعی مواد کو کارآمد بنانا ہے جو عام طور پر ضائع کردیا جاتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے خاص طور پر پی ای ٹی پلاسٹک پر توجہ دی جو مشروبات کی بوتلوں سمیت متعدد اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ اس پلاسٹک میں موجود کاربن سے بھرپور مرکبات کو غذائی اجزا میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

ماہرین نے کیمیائی محلول استعمال کرنے کے بجائے مخصوص اقسام کی خمیر کو حیاتیاتی نظام کے طور پر استعمال کیا۔ خمیر کو اس طرح تیار کیا گیا کہ وہ پلاسٹک، مکئی کے ڈنٹھل، پتوں اور دیگر زرعی کچرے سے حاصل ہونے والے مرکبات کو پروٹین، حیاتین، چکنائی اور ذائقہ پیدا کرنے والے اجزا میں تبدیل کرسکے۔

اس مقصد کے لیے کچرے کو پانی اور آکسیجن کی مدد سے بلند درجہ حرارت اور دباؤ میں توڑا گیا جس کے بعد حاصل ہونے والے اجزا کو خمیر کے ذریعے غذائی مواد میں تبدیل کیا گیا۔

تحقیق کے نتیجے میں تیار ہونے والے غذائی اجزا کو ریشے، نشاستے اور مٹھاس پیدا کرنے والے مادوں کے ساتھ ملا کر خاص طریقے سے بسکٹ تیار کیے گئے، جنہیں ’’مائیکرو بائٹس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

محققین کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بسکٹ کھانے کے لیے محفوظ ہوسکتے ہیں تاہم ذائقے کی باقاعدہ جانچ شروع کرنے سے قبل متعلقہ ادارے کی منظوری درکار ہے۔ ابتدائی طور پر بسکٹ کی خوشبو کے بارے میں لوگوں کا ردعمل مثبت رہا۔

تحقیقی ٹیم ذائقے اور غذائیت کو مزید بہتر بنانے پر بھی کام کررہی ہے۔ ایک مخصوص خمیر پودوں سے حاصل ہونے والے مواد کو ونیلا کے ذائقے میں تبدیل کرسکتی ہے جب کہ دوسری قسم پی ای ٹی سے حاصل ہونے والے مادے کو ایسے جز میں تبدیل کرتی ہے جسے انسانی جسم حیاتین الف میں بدل سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں، آبدوزوں اور چاند یا مریخ پر ممکنہ انسانی آبادیوں میں خوراک کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا میں خوراک کی طلب میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، اس لیے کچرے کو غذائی اجزا میں تبدیل کرنے والی حیاتیاتی ٹیکنالوجی مستقبل میں خوراک کے بحران سے نمٹنے کا ایک نیا ذریعہ بن سکتی ہے۔