Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہیروشیما میں ایٹمی حملے کے ملبے سے زمین پر پہلے کبھی نہ دیکھی جانے والی دھات دریافت

ہیروشیما میں ایٹمی دھماکے کے وقت درجہ حرارت تقریباً 7 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا تھا۔

1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر ہونے والے ایٹمی حملے کے ملبے سے سائنس دانوں نے ایک ایسی دھات دریافت کی ہے جو اس سے پہلے زمین پر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

اٹلی کی جامعہ فلورنس کے ماہر ارضیات لوکا بیندی کی سربراہی میں سائنس دانوں نے ہیروشیما کے ساحلی علاقے سے حاصل کیے گئے شیشے جیسے ملبے کے ذرات کا تفصیلی جائزہ لیا جس دوران تقریباً 10 مائیکرومیٹر چوڑا ایک غیر معمولی دھات کا ذرہ سامنے آیا۔

ماہرین کے مطابق 6 اگست 1945 کو ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹمی بم کے دھماکے کے وقت درجہ حرارت تقریباً 7 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا تھا۔ شدید حرارت نے دھات، شیشے، مٹی اور عمارتوں کے اجزا کو پگھلا کر ملادیا جب کہ اس کے بعد یہ مواد انتہائی تیزی سے ٹھنڈا ہوا۔

اس غیر معمولی عمل کے باعث ایسے کیمیائی امتزاج اور جوہری ساختیں وجود میں آئیں جو عام حالات میں بننا انتہائی مشکل ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ہیروشیما کے ایٹمی ملبے سے حاصل کیے گئے 34 ذرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ان میں زیادہ تر لوہے اور کرومیم پر مشتمل دھات کے ذرات معمول کے مطابق تھے تاہم ایک ذرہ اپنی ساخت کے باعث سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس ذرے میں لوہے کے ساتھ کرومیم، سلیکون، نکل، مولبڈینم، مینگنیز اور ایلومینیم بھی موجود ہیں۔ مزید تحقیقات میں اس کے ایٹمی ڈھانچے کو بھی عام فولاد سے بالکل مختلف پایا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق اس دھات کے مرکب کی خاص بات صرف اس میں شامل عناصر نہیں بلکہ ان ایٹموں کی مخصوص ترتیب بھی ہے جو پہلے سے معلوم صنعتی دھاتوں یا ایٹمی دھماکوں کے ملبے میں رپورٹ ہونے والے مادوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نایاب مادہ ایٹمی دھماکے کے دوران دھات کے بخارات سے تشکیل پایا اور انتہائی تیزی سے ٹھنڈا ہونے کے باعث اپنی پیچیدہ ساخت میں محفوظ ہوگیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے تاریخی ملبے میں اس نوعیت کے مزید نامعلوم مادے چھپے ہوسکتے ہیں جو انتہائی چھوٹے ذرات کی شکل میں موجود ہیں۔

سائنس دانوں نے واضح کیا کہ یہ دریافت سائنسی اعتبار سے غیر معمولی ضرور ہے تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ مادہ انسانی تاریخ کے ایک انتہائی تباہ کن سانحے کے نتیجے میں وجود میں آیا۔