Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بانی پی ٹی آئی کی نجی اسپتال منتقلی؛ عام قیدی بھی عدالت پہنچ گئے

عدالت نے تینوں کیسز میں پیرا وائس کمنٹس طلب کرلیے اور جیل حکام کو جواب کیلئے نوٹس جاری کردیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کا نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے رابطے کی اجازت سے متعلق درخواستوں پر جیل سپرنٹنڈنٹ سے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

اڈیالہ جیل کے تینوں قیدیوں نے نجی اسپتالوں سے علاج اور اہل خانہ سے بات کرانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا جس کے بعد جسٹس محمد آصف نے قیدیوں الیاس خان، محمد اسماعیل خان اور اویس الطاف کی درخواستوں پر سماعت کی۔ اس موقع پر اسماعیل خان کے وکیل بیرسٹر اختر چھینہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

بیرسٹر اختر چھینہ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار ہیموفیلیا بیماری کا شکار ہے اور انٹرنل بلیڈنگ ہے۔ دو ماہ میں دس مرتبہ اسپتال لایا گیا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔

وکیل کے مطابق اس مسئلے کا علاج ابھی تک پاکستان میں صرف شفاء اسپتال میں ہی ممکن ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر بیماری کا علاج سرکاری اسپتال میں نہیں تو قیدی کو پرائیویٹ اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔

بیرسٹر اختر چھینہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ علاج کے اخراجات اہل خانہ برداشت کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی۔

وکیل نے عدالت سے استفسار کیا کہ اگر لیور ٹرانسپلانٹ سرکاری اسپتال میں میسر نہ ہو تو کیا اس قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں منتقل نہیں کیا جائے گا؟

درخواست گزار اویس الطاف کے وکیل سید جعفر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ اویس الطاف کو بخار اور دل کا مرض ہے۔

سید جعفر ایڈووکیٹ نے کہا کہ مناسب علاج معالجہ کرانا قیدی کا بنیادی حق ہے۔ سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہیں، شفاء اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست گزار محمد اسماعیل کے وکیل نے بتایا کہ محمد اسماعیل 9 سال سے اڈیالہ جیل قید ہے۔ ایک بھائی دوبئی ہوتا ہے اور سالوں سے رابطہ نہیں ہے۔

وکیل نے استدعا کی کہ جیل حکام کو حکم دیا جائے کہ واٹس ایپ کال کے ذریعے بھائی سے بات کرائی جائے۔

عدالت نے تینوں کیسز میں پیرا وائس کمنٹس طلب کرلیے اور جیل حکام کو جواب کیلئے نوٹس جاری کردیا۔

بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیسز کی سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں