Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چھاتی کے سرطان کے لاکھوں مریضوں کے لئے بڑی خوش خبری، مشکل علاج سے نجات ممکن

بین الاقوامی تحقیق میں چار ہزار سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا جن کی عمر چالیس برس سے زیادہ تھی۔

سائنسدانوں نے ایک ایسا نیا جینیاتی معائنہ تیار کرلیا ہے جس کی مدد سے یہ معلوم کیا جاسکے گا کہ چھاتی کے سرطان میں کن مریضہ کو کیمیائی علاج کی واقعی ضرورت ہے اور کن خواتین کو اس مشکل مرحلے سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

بین الاقوامی تحقیق میں چار ہزار سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا جن کی عمر چالیس برس سے زیادہ تھی۔ تحقیق برطانیہ سمیت کئی ممالک میں کی گئی۔ ماہرین نے سرطان سے متعلق پچاس جینز کی سرگرمی کا جائزہ لے کر یہ اندازہ لگایا کہ بیماری دوبارہ ہونے کا خطرہ کتنا ہے۔

تحقیق کے مطابق تقریباً دو تہائی خواتین ایسی تھیں جنہیں کیمیائی علاج نہ دینے کے باوجود ان کی صحت کے نتائج تقریباً ویسے ہی رہے جیسے ان مریضوں کے تھے جنہیں یہ علاج دیا گیا تھا۔ پانچ سال بعد زندہ رہنے کی شرح دونوں گروہوں میں بہت قریب رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ہزاروں خواتین کو غیر ضروری کیمیائی علاج سے بچایا جاسکے گا جس کے مضر اثرات میں شدید تھکن، متلی، بالوں کا گرنا، جسمانی کمزوری اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہونا شامل ہیں۔

تحقیق میں شامل ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں نئے جینیاتی معائنے کے بعد کیمیائی علاج کی ضرورت پیش نہیں آئی اور وہ گزشتہ کئی برس سے دوسرے طریقۂ علاج کے ذریعے بہتر زندگی گزار رہی ہیں۔

ان کے مطابق سرطان کی تشخیص انسان کو خوف اور غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کردیتی ہے، ایسے میں یہ خبر بڑی راحت کا باعث بنی۔

ماہرینِ سرطان نے اس تحقیق کو علاج کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے احتیاطاً زیادہ تر خواتین کو کیمیائی علاج دیا جاتا تھا حالانکہ بعد میں معلوم ہوتا تھا کہ بہت سی مریض خواتین کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔

تحقیق کے نتائج امریکا میں ہونے والی سرطان سے متعلق دنیا کی بڑی طبی کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ طریقہ چالیس سال سے کم عمر خواتین کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوگا یا نہیں۔

متعلقہ خبریں