نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گھر میں پالی جانے والی وہ بلیاں جو آزادانہ طور پر باہر گھومتی ہیں، انسانوں میں منتقل ہونے والی متعدد بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
ماہرین نے 400 سے زائد تحقیقی مطالعات کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ باہر گھومنے والی پالتو بلیوں میں بیماری پھیلانے والے جراثیم پائے جانے کا امکان صرف گھر کے اندر رہنے والی بلیوں کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسی بلیاں چوہوں، پرندوں اور دیگر جنگلی جانوروں کا شکار کرتی ہیں جن کے ذریعے مختلف بیماریوں کے جراثیم ان تک منتقل ہوسکتے ہیں۔ بعد ازاں یہی جراثیم انسانوں یا دیگر جانوروں تک بھی پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے مالکان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کی بلی کتنے جانوروں کا شکار کرتی ہے یا کس ماحول میں جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ باہر گھومنے والی بلیاں باغات، پارکوں اور دیگر عوامی مقامات پر فضلہ چھوڑتی ہیں جس میں موجود جراثیم مٹی اور پانی میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں اور انسانوں سمیت دوسرے جانوروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بلیوں کو بغیر نگرانی کے باہر جانے سے روکا جائے۔ اس مقصد کے لیے محفوظ باڑوں، نگرانی میں کھلی فضا میں وقت گزارنے یا پٹے کے ساتھ سیر کرانے جیسے طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حفاظتی ٹیکے اور باقاعدہ طبی معائنہ بھی ضروری ہے تاہم بیماریوں سے مکمل تحفظ کے لیے بلیوں کے غیر ضروری بیرونی رابطوں کو محدود کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ مناسب دیکھ بھال اور نگرانی کے ساتھ گھر کے اندر یا محدود بیرونی رسائی رکھنے والی بلیاں نہ صرف صحت مند بلکہ زیادہ طویل عمر بھی پاسکتی ہیں۔




















