Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کون سی غذائیں فوراً پھینک دینی چاہیے؟ ماہرین نے 4 اہم نشانیاں بتادیں

ایسی خوراک کھانے سے معدے کی خرابی، الٹی اور متلی جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض اوقات پرانی نظر آنے والی غذائیں اب بھی استعمال کے قابل ہوتی ہیں لیکن چند واضح علامات ایسی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق گھروں میں بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہوتی ہے، حالانکہ اس کا ایک حصہ محفوظ طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خوراک میں چار مخصوص نشانیاں موجود ہوں تو اسے فوراً تلف کردینا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی غذا پر پھپھوندی لگ جائے، اس پر چکنا پن یا لیس دار تہہ بن جائے، اس سے پانی یا کوئی اور مائع خارج ہونے لگے یا اس میں تیز اور ناگوار بو پیدا ہوجائے تو اسے ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسی خوراک کھانے سے معدے کی خرابی، الٹی، متلی اور اسہال جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب اگر پھل یا سبزیاں صرف مرجھا جائیں، سکڑ جائیں یا ان کا رنگ کچھ تبدیل ہوجائے تو ضروری نہیں کہ وہ خراب ہوچکی ہوں۔ مثال کے طور پر زیادہ پکے ہوئے کیلے، سکڑے ہوئے سیب اور خشک چھلکے والے ترش پھل اب بھی مختلف کھانوں اور مشروبات میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نرم پھلوں پر اگر پھپھوندی لگ جائے تو انہیں پھینک دینا چاہیے جب کہ سخت پھلوں میں متاثرہ حصہ کافی مقدار کے ساتھ کاٹ کر باقی حصہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح مرجھائی ہوئی سبزیاں اکثر صرف نمی کھونے کی وجہ سے ایسی ہوجاتی ہیں اور انہیں پکانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم آلو میں سبز رنگ یا غیر معمولی کونپلیں نمودار ہوجائیں تو احتیاط ضروری ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روٹی پر پھپھوندی لگ جائے تو پوری روٹی پھینک دینا بہتر ہے کیونکہ جراثیم اس کے اندر تک پھیل سکتے ہیں۔

اسی طرح دودھ اور دیگر دودھ سے بنی اشیا اگر مقررہ مدت گزرنے کے بعد استعمال کی جائیں تو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ خوراک کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنا اور خراب ہونے کی ابتدائی علامات کو پہچاننا نہ صرف پیسے بچاسکتا ہے بلکہ خوراک کے ضیاع کو بھی کم کرسکتا ہے۔