ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جو والدین روزمرہ مصروفیات کے دوران اپنے لیے کچھ وقت نکالتے ہیں تو وہ ذہنی اور جسمانی طور پر زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں۔
تحقیق میں 18 سال سے کم عمر بچوں کے 318 والدین کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء سے آٹھ دن تک روزانہ یہ معلومات لی گئیں کہ آیا انہیں دن کے دوران اپنے لیے وقت ملا یا نہیں۔ اس دوران ان کے جذبات اور ذہنی کیفیت کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق اپنے لیے وقت سے مراد ایسا وقت ہے جو ملازمت، گھریلو ذمہ داریوں اور بچوں کی دیکھ بھال سے ہٹ کر گزارا جائے۔ اس میں کتاب پڑھنا، ورزش کرنا، موسیقی سننا، آرام کرنا یا پسندیدہ مشاغل میں وقت صرف کرنا شامل تھا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن دنوں والدین کو اپنے لیے وقت ملا، ان میں خوشی، اطمینان اور سکون جیسے مثبت جذبات زیادہ تھے جب کہ غصہ، پریشانی اور اداسی جیسے منفی احساسات میں کمی دیکھی گئی۔
تحقیق میں جسم میں پیدا ہونے والے ایک ایسے مادے کا بھی جائزہ لیا گیا جو ذہنی دباؤ سے تعلق رکھتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ جن والدین کو اپنے لیے وقت میسر آیا، ان کے جسم میں دباؤ کے اثرات نسبتاً کم پائے گئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ سے بہتر انداز میں نمٹنے میں کامیاب رہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ والدین جو فطری طور پر زیادہ فکر مند یا جذباتی ہوتے ہیں، انہیں اپنے لیے وقت نکالنے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔
اسی طرح نئی چیزیں سیکھنے اور تخلیقی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والے افراد بھی ایسے وقت سے زیادہ مثبت اثرات حاصل کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے لیے وقت نکالنا محض ایک آسائش نہیں بلکہ والدین کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔
ماہرین مزید کہتے ہیں کہ روزانہ صرف چند منٹ کا ذاتی وقت بھی ذہنی دباؤ کم کرنے، جذبات کو متوازن رکھنے اور مجموعی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔




















