ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اسپتال میں زیر علاج مریض اگر باقاعدگی سے اپنے دانت صاف رکھیں تو پھیپھڑوں کے خطرناک انفیکشن کے امکانات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اسپتالوں میں ایسے مریض جو مصنوعی سانس کے آلے پر نہیں ہوتے تو ان میں پھیپھڑوں کا ایک مخصوص انفیکشن عام پایا جاتا ہے جو بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری عموماً منہ اور گلے میں موجود جراثیم کے سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پیدا ہوتی ہے۔
آسٹریلیا کے تین بڑے اسپتالوں میں تقریباً نو ہزار مریضوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ دانتوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دینے سے اس انفیکشن کے خطرے میں 60 فیصد تک کمی واقع ہوئی۔
تحقیق کے دوران مریضوں کو دانت صاف کرنے کا سامان فراہم کیا گیا، انہیں اس کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا اور ضرورت مند افراد کو مدد بھی دی گئی۔
ماہرین کے مطابق بیماری، کمزوری یا بعض ادویات کے استعمال کے دوران منہ میں جراثیم کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ اگر ان جراثیم کو بروقت صاف نہ کیا جائے تو وہ پھیپھڑوں میں پہنچ کر انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دانت صاف کرنے والے مریضوں کی شرح 16 فیصد سے بڑھ کر 62 فیصد تک پہنچ گئی جس کے نتیجے میں انفیکشن کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اسپتال میں داخل ہونے والے افراد اپنے ساتھ دانت صاف کرنے کا سامان ضرور رکھیں، روزانہ کم از کم دو مرتبہ دانت صاف کریں اور اگر خود ایسا نہ کرسکیں تو طبی عملے سے مدد طلب کریں۔
محققین کا کہنا ہے کہ دانتوں کی صفائی ایک سادہ، کم خرچ اور مؤثر طریقہ ہے جو اسپتال میں ہونے والے خطرناک انفیکشن سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔




















