Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائنس کا حیران کن کارنامہ؛ فالج میں مبتلا شخص آلے کی مدد سے بولنے لگا

فالج میں مبتلا ایک شخص جدید دماغی پیوند کی مدد سے دوبارہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔

فالج میں مبتلا ایک شخص جدید دماغی پیوند کی مدد سے دوبارہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ اس نئی طبی پیش رفت کے باعث اس کے اہلِ خانہ ایک بار پھر اس کی آواز سے مشابہت رکھنے والی مصنوعی آواز میں اس کے خیالات سن سکتے ہیں۔

47 سالہ شخص ایک ایسے اعصابی مرض کا شکار ہے جس کے باعث اس کے جسم کا بیشتر حصہ حرکت کرنے سے قاصر ہوچکا ہے اور اس کی قدرتی گفتگو بھی تقریباً ناممکن ہوگئی تھی۔

تاہم دماغ میں نصب ایک خصوصی آلے نے اس کے خیالات کو تحریر اور پھر آواز میں تبدیل کرنا ممکن بنادیا ہے۔ یہ نظام دماغ کے اس حصے سے اشارے حاصل کرتا ہے جو بولنے کی کوشش کے دوران متحرک ہوتا ہے۔

اگرچہ مریض اپنے ہونٹ یا زبان حرکت نہیں دے سکتا لیکن دماغی سرگرمی کو پڑھ کر اسے فوری طور پر الفاظ میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔

مریض اپنی آنکھوں کی حرکت سے پردۂ نمائش پر موجود اختیارات منتخب کرتا ہے اور محض سوچ کے ذریعے مختلف احکامات دے سکتا ہے۔

اس سہولت کی مدد سے وہ پیغامات بھیجنے، خطوط تحریر کرنے، معلومات تلاش کرنے اور اپنے روزمرہ کے پیشہ ورانہ امور انجام دینے کے قابل ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران اس شخص نے اس نظام کے ذریعے 1 لاکھ 83 ہزار سے زائد جملے اور تقریباً 20 لاکھ الفاظ کا اظہار کیا ہے۔ مسلسل مشق کے باعث اس کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ ایک منٹ میں اوسطاً 56 الفاظ منتقل کرسکتا ہے۔

مریض کا کہنا ہے کہ سب سے خوش کن لمحہ وہ ہوتا ہے جب اس کی اہلیہ اور بیٹی اس کی پرانی آواز سے مشابہت رکھنے والی آواز سنتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اسے دوبارہ اپنے خاندان اور معاشرے سے جڑے رہنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دماغی اشاروں کی مدد سے رابطے کے ایسے نظام عملی زندگی میں مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں جب کہ مزید تحقیق کے بعد مستقبل میں شدید جسمانی معذوری کے شکار افراد بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔

متعلقہ خبریں