آپ نے لوگوں کو اکثر یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ”میں خوشی سے مر جاؤں گا” تاہم یہ کسی حد تک حقیقت بھی ہے ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق بہت زیادہ خوشی بعض حالات میں واقعی دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
آکسفورڈ میڈیکل کیس رپورٹس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 65 سالہ خاتون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جو اپنی بیٹی کی شادی کی خوشی کے بعد سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال پہنچ گئیں۔
ڈاکٹروں کو پہلے شبہ ہوا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے لیکن تمام ٹیسٹ کرنے کے باوجود دل کی شریانوں میں کوئی رکاوٹ یا خون کا لوتھڑا نہیں ملا۔
معائنے سے معلوم ہوا کہ خاتون کے دل کا ایک حصہ عارضی طور پر اپنی معمول کی شکل بدل چکا تھاجس کی وجہ سے دل صحیح طریقے سے خون پمپ نہیں کر پا رہا تھا۔
ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ ایک نایاب بیماری ہے جسے “ہیپی ہارٹ سنڈروم” یا طبی زبان میں ٹاکوٹسوبو کارڈیو مایوپیتھی کہا جاتا ہے یہ بیماری اس وقت ہوسکتی ہے جب کوئی شخص اچانک بہت زیادہ خوشی یا شدید جذباتی کیفیت کا سامنا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اس آسان طریقے سے تربوز کا رنگ اور مٹھاس مصنوعی ہے یا قدرتی جانیے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی بیماری شدید غم یا صدمے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، جسے “بروکن ہارٹ سنڈروم” کہا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق جن مریضوں کو دل کے دورے کا شبہ ہوتا ہے ان میں صرف ایک سے تین فیصد افراد دراصل اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ ان میں بھی صرف چار فیصد کیسز بہت زیادہ خوشی کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔
یہ بیماری عموماً عارضی ہوتی ہے اور مناسب علاج سے مریض صحت یاب ہو سکتا ہے تاہم بعض صورتوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے ڈاکٹروں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی مریض میں دل کے دورے جیسی علامات ہوں لیکن شریانوں میں رکاوٹ نہ ملے تو ہیپی ہارٹ سنڈروم کے امکان کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔
خوش قسمتی سے اس کیس میں 65 سالہ خاتون مکمل طور پر صحت یاب ہو گئیں اور اب معمول کی زندگی گزار رہی ہیں۔




















