Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

برص کے علاج میں اہم پیش رفت،  جلد کی رنگت بحال کرنے کی نئی امید پیدا 

برص ایک خودکار مدافعتی (آٹو امیون) بیماری ہے

سائنس دانوں نے وٹیلیگو (برص) کے علاج سے متعلق ایک اہم دریافت کی ہے جس سے مستقبل میں اس بیماری کے علاج کے لیے نئی امید پیدا ہوگئی ہے۔

برص ایک خودکار مدافعتی (آٹو امیون) بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام جلد کو رنگ دینے والے خلیات جنہیں میلانوسائٹس کہا جاتا ہے پر حملہ کر کے انہیں تباہ کر دیتا ہے۔ ان خلیات کے ختم ہونے سے جلد اپنی رنگت کھو دیتی ہے اور سفید دھبے نمودار ہو جاتے ہیں۔

تاہم جاپان کی اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ برص سے متاثرہ جلد میں میلانوسائٹس مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک غیر فعال یا “غیر پختہ” حالت میں چلے جاتے ہیں جہاں وہ اپنی بنیادی خصوصیات، خصوصاً جلد کو رنگ دینے کی صلاحیت، عارضی طور پر کھو دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی مچھلی کھا کر دودھ پینے سے برص ہو سکتا ہے؟

محققین کے مطابق جلد میں موجود ایک باریک تہہ جسے بیسمنٹ میمبرین کہا جاتا ہے میلانوسائٹس کو صحت مند رہنے اور میلانین بنانے کے لیے ضروری سگنلز فراہم کرتی ہے۔ لیکن برص  کے مریضوں میں اس تہہ کی ساخت تبدیل ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں میلانوسائٹس کا اپنے اردگرد کے ماحول سے تعلق بدل جاتا ہے اور وہ اپنی معمول کی کارکردگی کھو کر غیر فعال حالت میں چلے جاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اس تبدیلی کے باعث ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو بیماری کو مزید بڑھاتا ہے۔ غیر فعال میلانوسائٹس بیسمنٹ میمبرین کو صحت مند رکھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں جس سے جلد کا نظام مزید خراب ہوتا جاتا ہے۔

سائنس دانوں نے تجربات کے دوران مخصوص ادویات استعمال کیں جنہوں نے ان حیاتیاتی راستوں  کو ہدف بنایا جو میلانوسائٹس کو غیر فعال حالت میں لے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خلیات دوبارہ فعال ہوئے جلد کا رنگ پیدا کرنے والے جینز کی سرگرمی بحال ہوئی اور میلانوسائٹس نے اپنی معمول کی خصوصیات دوبارہ حاصل کرنا شروع کر دیں۔

پروفیسر ایچیرو کاتایاما کے مطابق موجودہ علاج زیادہ تر مدافعتی نظام کے حملے کو روکنے اور سوزش کم کرنے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن اگر متاثرہ جلد میں غیر فعال میلانوسائٹس اب بھی موجود ہوں تو انہیں دوبارہ فعال کر کے جلد کی قدرتی رنگت بحال کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر لِنگ لی یانگ نے کہا کہ یہ دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ میلانوسائٹس میں آنے والی تبدیلی مستقل نہیں ہوتی اور ممکن ہے اسے پلٹا جا سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس طریقہ علاج کی مؤثریت اور حفاظت جانچنے کے لیے اب انسانی سطح پر مزید کلینیکل آزمائشوں کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں کی جانے والی تحقیقات بھی ان نتائج کی تصدیق کرتی ہیں تو یہ دریافت برص کے علاج میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں مریضوں کے لیے زیادہ مؤثر علاج کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔