بھارت میں بچوں کو متاثر کرنے والے خطرناک چاندی پورا وائرس نے تشویش بڑھا دی وائرس کے باعث اب تک 22 بچوں کی موت کے بعد حکومت نے قومی سطح کی ریسپانس ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیج دی ہیں۔
بھارتی وزارت صحت کے مطابق خصوصی ٹیمیں مغربی ریاستوں گجرات اور راجستھان میں بھیجی گئی ہیں، جہاں وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ ٹیمیں مقامی طبی حکام کے ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لیں گی اور وائرس پر قابو پانے کے اقدامات میں مدد کریں گی۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق چاندی پورا وائرس مون سون کے موسم میں سینڈ فلائیز، مچھر اور ٹِکس کے ذریعے پھیل سکتا ہے اور دماغی سوزش کا سبب بنتا ہے۔
گجرات میں وائرس سے متاثرہ بچوں کی اموات کے بعد بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ شروع کی گئی۔ گجرات کے وزیر صحت پرفل پنشیریا کے مطابق 184 مریضوں کے خون کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے جن میں 35 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق راجستھان میں بھی گزشتہ ماہ چاندی پورا وائرس کے باعث دو اموات سامنے آئی تھیں۔
حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، مچھر اور کیڑے مکوڑوں سے بچاؤ اور بچوں میں بخار، دورے یا غیر معمولی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد لینے کی ہدایت کی ہے۔



















