Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

موٹے افراد کے لیے خوشخبری، وزن کم کرنے والی نئی دوا استعمال کے لیے منظور

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا صرف ڈاکٹر کے مشورے اور نسخے پر استعمال کی جا سکے گی

موٹاپے سے نجات کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آگئی برطانیہ نے ایسی نئی وزن کم کرنے والی گولی کی منظوری دے دی ہے جو انجیکشن ادویات کی طرح کام کرتی ہے۔

برطانیہ کی میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی  نے اورفورگلیپرون نامی دوا کے استعمال کی اجازت دے دی ہے، جسے مارکیٹ میں فونڈایو کے نام سے متعارف کرایا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ یورپ کا پہلا ریگولیٹر ہے جس نے اس گولی کو وزن کم کرنے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے منظور کیا ہے۔

یہ دوا امریکی دوا ساز کمپنی ایلی للی اینڈ کمپنی تیار کر رہی ہے، جو دنیا کی معروف وزن کم کرنے والی انجیکشن دوا مونجارو بھی بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق فورگلیپرون کا تعلق جی ایل پی-1 ریسیپٹر اگانسٹس نامی ادویات کے گروپ سے ہے، جو جسم میں بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمون کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ دماغ کے ان حصوں پر اثر انداز ہوتی ہے جو بھوک اور خوراک کی طلب کو قابو کرتے ہیں، جس سے انسان کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس رہتا ہے۔

نئی دوا کی خاص بات یہ ہے کہ اسے انجیکشن کے بجائے روزانہ ایک گولی کی صورت میں لیا جائے گا، اور اسے دن کے کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوا کے استعمال کے دوران کھانے یا پانی سے متعلق کوئی خاص پابندی نہیں رکھی گئی۔

حکام کے مطابق یہ دوا وزن کم کرنے کے لیے مناسب غذا اور صحت مند طرز زندگی کے ساتھ استعمال کی جائے گی، جبکہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر کی بلند سطح کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

اورفورگلیپرون  کا علاج کم خوراک سے شروع کیا جائے گا، جس کے بعد بتدریج خوراک میں اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا صرف ڈاکٹر کے مشورے اور نسخے پر استعمال کی جا سکے گی۔

دوا کے ممکنہ مضر اثرات میں متلی، قبض، اسہال، قے، بدہضمی اور پیٹ میں درد شامل ہیں۔ ایم ایچ آر اے نے کہا ہے کہ دوا کی حفاظت اور اثرات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔

اگرچہ برطانیہ میں اس دوا کی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم فی الحال یہ نیشنل ہیلتھ سروس  کے ذریعے دستیاب نہیں ہوگی۔ این ایچ ایس میں شامل کرنے کا فیصلہ مزید جائزے، خاص طور پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس  کی سفارشات کے بعد کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کو “وزن کم کرنے کے انجیکشن کا آسان متبادل” قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دوا کا استعمال ہمیشہ طبی نگرانی میں ہی کیا جانا چاہیے۔