کورونا کی نئی قسم خطرہ بن گئی ، کیسز دیگر ممالک تک پہنچ گئے


شبین رضاویب ایڈیٹر

28th December, 2020
Square ad 300 x 250

عالمی وبا کورونا وائرس کی نئی قسم برطانیہ کے بعد اب دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

برطانیہ میں سامنے آنے والی عالمی وبا کورونا وائرس کی نئی قسم کے کیس سوئیڈن، کینیڈا، اسپین، جاپان سمیت 15ملکوں تک پہنچ گئے ہیں۔

 اس نئے وائرس کے باعث کرسمس کے موقعے پر انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے ٹیئر فور یعنی چوتھے درجے کی سخت پابندیاں متعارف کروائیں گئی ہیں۔

اس کے علاوہ متعدد یورپی ممالک نے برطانیہ کے ساتھ مختلف دورانیہ پر مشتمل سفری پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔

انگلینڈ میں وائرس کی جس قسم کا وجود ہی نہیں تھا، وہ وائرس دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے کچھ حصوں میں تیزی سے پھیل گیا ہے۔

نئے انفیکشن سے متعلق حکومتی مشیروں کو کسی حد تک یقین ہے کہ وائرس کی دوسری مختلف اقسام کے مقابلے میں، یہ زیادہ آسانی سے منتقل ہوتا ہے۔

دوسری جانب نئے وائرس پر قابو پانے کےلئے یورپ کے مختلف ممالک میں طبی عملے اور کیئر ہوم کے مکینوں کو ویکسین لگانے کا آغاز کر دیا گیا جبکہ قبرص اور عمان میں بھی کورونا ویکسی نیشن شروع کردی گئی۔

فرانسیسی حکومت تیسرے لاک ڈاؤن پر غور کررہی ہے۔

ادھر سڈنی میں لوگ سالِ نو کے جشن کے لیے حکومت کی اجازت کے منتظر ہیں۔

برطانیہ سے کورونا کا نیا وائرس پاکستان آیا ہے یا نہیں؟ 

نئے وائرس کے سلسلے میں پاکستان کی بات کی جائے تو پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ابھی سائنسی شواہد نہیں کہ برطانیہ سے کوروناکا وائرس پاکستان آیاہو، حالیہ دنوں میں برطانیہ سے آئے افرادکا ڈیٹا مقامی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنرزکو دے دیا گیا ہے، برطانیہ سے آئے افرادکو ٹریس کرکے ٹیسٹ کیا جارہا ہے، بہت سارےلوگ ٹریس ہوگئے ہیں اور ان کےٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

وائرس کی یہ نئی قسم باعثِ تشویش کیوں ہے؟

تین چیزیں ایک ساتھ ہو رہی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرف توجہ مبذول ہو رہی ہے۔

یہ نئی قسم تیزی سے وائرس کے پرانے ورژن کی جگہ لے رہی ہے۔

وائرس کی ہیت تبدیل ہو رہی ہے جو وائرس کے سب سے اہم حصے کو متاثر کر رہی ہے۔

ان میں سے کچھ تغیرات کو پہلے ہی لیب میں دکھایا جا چکا ہے جو خلیوں کو متاثر کرکے وائرس کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

ان سب چیزوں سے مل کر ایک ایسا وائرس بنتا ہے جو آسانی سے پھیل سکتا ہے۔

واضح رہےکہ  دنیا بھر کی طرح  اٹلی میں بھی کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کرتی جارہی ہے جس کے پیش نظر لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اٹلی  کی حکومت نے کورونا وائرس  کی دوسری لہرکا سامنا کرتے ہوئے آنے والی تعطیلات کے دوران ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومتی اعلان کے مطابق  لوگوں کو صرف کرسمس اور نئے سال کے موقع پر کچھ مراعات دی جائیں گی جس میں میلے کے دوران صرف دو مہمانوں کو بلائے جانے کی اجازت ہو گی۔