ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ مال گل پلازا میں رات گئے لگنے والی ہولناک آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا، تاہم یہ آگ اپنے پیچھے تباہی، چیخیں اور سوگ چھوڑ گئی۔
آتشزدگی کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کے دو حصے مکمل طور پر منہدم ہو گئے، جس کے نتیجے میں ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق، 30 زخمی جبکہ 56 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات سوا دس بجے اچانک شعلے بھڑکے اور لمحوں میں آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فضا میں دھوئیں کے بادل چھا گئے، لوگ جان بچانے کے لیے بھاگتے دکھائی دیے، جبکہ فائر بریگیڈ کی درجنوں گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
مسلسل پانی پھینکے جانے کے باوجود آگ بے قابو رہی اور بالآخر عمارت کے دو حصے زور دار آواز کے ساتھ زمین بوس ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق دھوئیں سے متاثرہ متعدد افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے کئی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر روانہ کر دیا گیا۔ زخمی ہونے والے فائر فائٹرز ارشاد اور بلال کو پی این ایس شفا منتقل کیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہیں۔ مجموعی طور پر 30 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں لایا گیا، جن میں 13 برنس سینٹر، 15 ٹراما سینٹر اور 2 جناح اسپتال منتقل کیے گئے۔
چھیپا ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف (40 سال)، فراز (55 سال)، محمد عامر (30 سال)، فرقان (25 سال) سمیت دیگر شامل ہیں۔ شہداء کے لواحقین اسپتالوں کے باہر آہیں بھرتے اور اپنے پیاروں کی ایک جھلک کے منتظر دکھائی دیے۔
ریسکیو ٹیمیں ملبے میں دبے ممکنہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کی بے چینی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ واقع یہ سانحہ گل پلازا کو راکھ میں بدل گیا، مگر اس کے اثرات پورے کراچی کے دل پر نقش ہو گئے ہیں۔
گل پلازہ کی آگ گزشتہ 24 گھنٹے بعد بھی بے قابو
واضح رہے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا 10 بجے لگنے والی آگ پر 24 گھنٹے بعد بھی قابو نہیں پایا جاسکا ہے، جبکہ ریسکیو اداروں نے آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دے دیا ہے۔
تیز رفتاری سے پھیلتی ہوئی آگ نے عمارت کے کئی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں گل پلازہ کے 2 حصے گرچکے ہیں، اور ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق جبکہ 28 زخمی ہوچکے ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق، اس آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے فائر فائٹر کی شناخت فرقان کے نام سے کی گئی ہے، جبکہ دیگر چار افراد کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے طور پر ہوئی ہے۔
فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے بیس فائر ٹینڈرز، چار اسنارکلز، اور پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز کی مدد لی جارہی ہے۔
آگ بجھانے کے لیے پانی اور فوم کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے، تاہم آگ کی شدت کے باعث اس پر قابو پانا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔
یاد رہے کہ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر آگ لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی۔
حکام نے آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا ہے، جس پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا ہے، آگ لگنے کے باعث گراؤنڈفلورکی تمام دکانیں جل گئی ہیں۔
فائر فائٹرز کو عمارت میں تپش کے باعث اندر جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، شاپنگ پلازہ میں ایک ہزار 200 سے زائد دکانیں ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہےکہ شاپنگ پلازہ میں کئی افراد کے پھنسے ہونےکی اطلاع ہے۔
چیف فائرآفیسر کا کہنا ہے کہ عمارت میں زوردار دھماکا ہوا،جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی ہے ، دھماکاگیس لیکج کے باعث ہوا۔
وزیر اعظم کا گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر اظہارِ افسوس
وزیر اعظم نے کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ متاثرہ تاجروں اور دیگر افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
وزیر اعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ان کی جلد از جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں اور دعا کا اظہار کیا۔
بلاول بھٹو کی وزیراعلیٰ سندھ کو آگ بجھانے کیلئے تمام وسائل استعمال کرنے کی ہدایات
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو آگ بجھانے کیلئے تمام وسائل استعمال کرنے کی ہدایات کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی سےجانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کی فوری تحقیقات،آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی ہدایت بھی کی۔
ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام وسائل فراہم کیے جارہے ہیں،حکومت کی کوشش ہے آگ پر جلدازجلدقابوپایاجائے۔
چیف سیکریٹری سندھ کا دورہ، ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت
کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے جائے حادثہ کا دورہ کر کے جاری ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔
چیف سیکریٹری سندھ کو ڈپٹی کمشنر ساؤتھ اور ریسکیو 1122 کی جانب سے آگ پر قابو پانے کے اقدامات اور امدادی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے ریسکیو عمل مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام دستیاب فائر ٹینڈرز اور ریسکیو اہلکاروں کی اضافی نفری فوری طور پر تعینات کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے اور تمام ادارے باہمی تعاون سے کام کریں۔
عمارت کا ریکارڈ چیک کر رہے ہیں، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کے مطابق گل پلازہ کی عمارت 1989 میں تعمیر کی گئی تھی اور اس کا ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمارت کے اندر راستے تو موجود تھے، تاہم ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کے لیے مخصوص ایمرجنسی ایگزٹ کیوں نہیں بنایا گیا، اس پہلو کی بھی جانچ جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ متعلقہ اداروں سے عمارت کا نقشہ اور دیگر ضروری دستاویزات بھی چیک کی جائیں گی۔
ڈی سی ساؤتھ کے مطابق عمارت میں آگ بجھانے کے آلات رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی، مگر وہ موجود نہیں تھے، جس کے بعد تمام مارکیٹس کو فائر فائٹنگ آلات رکھنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ایس ایس پی سٹی کے مطابق عمارت کے بیچ کا ایک حصہ گر گیا ہے، جس کے بعد گرنے والے حصے کے قریب موجود تمام افراد کو حفاظتی طور پر پیچھے ہٹا دیا گیا ہے۔
عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث گرنے کا خدشہ
ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھیاں ٹوٹنے سے 2 افراد گر کر زخمی ہو گئے۔
ترجمان ریسکیو کا کہناہے کہ آگ کی وجہ سے عمارت کے پلرز کمزور ہوگئے ہیں، عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث گرنے کا خدشہ ہے۔ عمارت میں کتنے لوگ ہیں تعداد بتانا مشکل ہے۔


















