اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم میں مزید 200 ارب روپے اضافے کے خواہاں ہیں اور اس سلسلے میں وزارت خزانہ کو بجٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ڈی پی کے حجم میں اضافے کے لیے اضافی مالی وسائل درکار ہوں گے تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مزید 200 ارب روپے اضافی ریونیو جمع کرنے سے معذرت ظاہر کی ہے۔
ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پی ایس ڈی پی کا حجم بڑھانے کی صورت میں ریونیو ہدف میں مزید اضافے پر زور دیا ہے تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 754 ارب روپے مختص کیے جانے کا تخمینہ ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور پاور ڈویژن کو مجموعی طور پر 355 ارب روپے سے زائد فنڈز دیے جانے کی تجویز ہے جن میں این ایچ اے کے لیے 264 ارب روپے جبکہ پاور ڈویژن کے لیے 91 ارب روپے مختص کیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح آبی وسائل ڈویژن کے لیے 179 ارب روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ صوبوں اور خصوصی علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 251 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
دستاویزات کے مطابق صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر 99 ارب روپے، سابق فاٹا کے انضمام شدہ اضلاع کے لیے 66 ارب روپے جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 86 ارب روپے مختص کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دفاعی ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 11 ارب روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے 41 ارب روپے، ریلوے ڈویژن کے لیے 28 ارب روپے اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ وزارت داخلہ کے لیے 16 ارب روپے جبکہ وزارت اطلاعات و نشریات کے لیے 4 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

















