Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عالمی جوہری طاقتوں کی نئی درجہ بندی، پاکستان اور بھارت کے ایٹمی ذخائر کی تازہ تفصیلات سامنے آگئیں

دونوں ہمسایہ ممالک اپنی جوہری صلاحیتوں کو مزید جدید اور مؤثر بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں

دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ  نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں عالمی ایٹمی ذخائر، بڑی طاقتوں کی دفاعی حکمت عملی اور جنوبی ایشیا میں جوہری توازن کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے مجموعی جوہری ہتھیاروں کا بیشتر حصہ اب بھی روس اور امریکا کے پاس موجود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق روس تقریباً 4 ہزار 380 جبکہ امریکا 3 ہزار 700 جوہری وار ہیڈز کے ساتھ دنیا کی دو بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں۔ یوں عالمی ذخائر کا لگ بھگ 82 فیصد حصہ انہی دونوں ممالک کے قبضے میں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2026 تک بھارت کے پاس تقریباً 190 جبکہ پاکستان کے پاس 170 جوہری وار ہیڈز موجود تھے۔ ماہرین کے مطابق دونوں ہمسایہ ممالک اپنی جوہری صلاحیتوں کو مزید جدید اور مؤثر بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

SIPRI کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں زمین، فضاء اور سمندر سے جوہری حملے کی صلاحیت رکھنے والے نظام یعنی نیوکلیئر ٹرائیڈ، کو مضبوط بنا رہے ہیں تاہم دونوں ممالک کی دفاعی اور جوہری حکمت عملی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین بھی اپنے جوہری پروگرام میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے اور اس کے پاس 620 وار ہیڈز موجود ہیں جبکہ فرانس 290 اور برطانیہ 225 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ فہرست میں شامل ہیں۔ اسی طرح اسرائیل کے پاس اندازاً 90 اور شمالی کوریا کے پاس 60 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک نئے اسلحہ جاتی مقابلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر جوہری کمانڈ اور کنٹرول سسٹمز میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ایک ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا گیا ہے جو مستقبل میں غلط اندازوں اور غیر متوقع فیصلوں کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے جوہری سلامتی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں