وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائیزیشن (ترمیمی) بل کی شقوں پر نظر ثانی کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے۔
کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کریں گے جبکہ سینیٹر شیری رحمن، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور قانون و آئی ٹی شعبے کے ماہرین کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔
خیال رہے کہ بل کی بعض شقوں کے حوالے سے تحفظات سامنے آنے پر یہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
کمیٹی سیکشن 2 میں رائٹ آف وے فریم ورک پرنظرثانی کرے گی، کمیٹی ٹیلی کمیونیکیشن تنصیبات، نجی زمین سے متعلق رائٹ آف وے پرتجاویزپیش کرے گی۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو بل پر جلد نظر ثانی کرکے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل منظورکرلیا ہے جس کے بعد یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
ترمیمی بل کے مطابق نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لیے جگہ دینے کے پابند ہوں گے۔
موبائل فون یا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور لگانے کے لیے جگہ نہ دینے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔
















