Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

حکومت کی تمام اپیلیں مسترد، سپریم کورٹ نے زمین مالکان کے حق میں بڑا فیصلہ سنا دیا

اراضی کے معاوضے کا معیار سونے کے بدلے سونا، تانبا نہیں ہوگا

سپریم کورٹ نے جائیداد کے حقوق اور حکومتی اختیارات سے متعلق ایک تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریاست عوامی مفاد میں زمین یا جائیداد مالک کی رضامندی کے بغیر بھی حاصل کر سکتی ہے تاہم یہ اختیار ہرگز غیر محدود نہیں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال کیا جائے گا۔

جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے اس اختیار اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 23 ہر شہری کو پاکستان کے کسی بھی حصے میں جائیداد حاصل کرنے، رکھنے، فروخت کرنے اور منتقل کرنے کا حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 24 کے تحت کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق کارروائی اور عوامی مقصد کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ریاست عوامی مفاد میں زمین حاصل کرتی ہے تو متاثرہ مالک کو صرف سرکاری ریٹ نہیں بلکہ زمین کی اصل مارکیٹ ویلیو، ممکنہ استعمال، مستقبل کی ترقی اور اراضی کے حصول میں تاخیر کے دوران افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل اور منصفانہ معاوضہ دیا جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دیتے ہوئے کہا کہ جائیداد کے مالک کو سونے کے بدلے سونا دیا جائے، تانبا نہیں یعنی ایسا معاوضہ دیا جائے جو مالک کو مالی نقصان یا بدتر معاشی صورتحال سے دوچار نہ کرے اور اس کے نقصان کا مکمل ازالہ کرے۔

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ بطور آئینی حقوق کی محافظ، عدالت کی ذمہ داری ہے کہ جائیداد کے حصول کے ہر معاملے میں متاثرہ شہری کو مناسب، منصفانہ اور مکمل مالی انصاف فراہم کیا جائے۔ عوامی مفاد میں زمین حاصل کرنا ریاست کا اختیار ضرور ہے مگر مناسب معاوضہ دینا اس کی آئینی ذمہ داری بھی ہے۔

یہ فیصلہ صوابی اراضی معاوضہ کیس میں سنایا گیا جو نہری منصوبے کے لیے حاصل کی گئی زمین کے معاوضے سے متعلق تھا۔ زمین مالکان نے سرکاری معاوضہ ناکافی قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر ریفرنس کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر معاوضہ بڑھا دیا تھا۔ بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

خیبرپختونخوا حکومت نے بڑھائے گئے معاوضے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں تاہم سپریم کورٹ نے حکومت کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے تمام سول اپیلیں خارج کر دیں اور پشاور ہائی کورٹ و ریفرنس کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ اصول بھی طے کر دیا کہ اراضی کے معاوضے کا معیار سونے کے بدلے سونا، تانبا نہیں ہوگا صرف سرکاری نرخوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہر متاثرہ شہری کو اس کی زمین کی حقیقی قیمت اور مکمل مالی انصاف فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں