شہر کے ولیکا اسپتال میں طبی فضلے کو مناسب طریقے سے تلف نہ کیے جانے کے الزامات نے ایک بار پھر صحت کے حفاظتی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق استعمال شدہ سرنجوں اور دیگر طبی اشیاء کے باعث 81 بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے باوجود اسپتال کے بیک یارڈ میں مبینہ طور پر طبی فضلہ موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپتال کے پچھلے حصے میں استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپ سیٹس، خون آلود روئی اور دیگر طبی اشیاء موجود پائی گئیں، جس سے عوامی صحت کو لاحق خطرات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ طبی فضلے کو بروقت اور محفوظ طریقے سے تلف نہ کیا جائے تو مختلف خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
81 بچوں کے ایچ آئی وی متاثر ہونے کے معاملے کے باوجود سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اسپتالوں میں بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد نہایت ضروری ہے تاکہ مریضوں، عملے اور عام شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔




















