یومِ شہداء پولیس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے سندھ پولیس کے تمام شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء پولیس نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کی جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کو ہمیشہ مقدم رکھا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم جس نسبتاً پُرامن ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، وہ پولیس کے بہادر افسران اور جوانوں کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شہداء پولیس کے بچے آج کی تقریب کے صرف مہمان نہیں بلکہ اس تقریب کے میزبان بھی ہیں، کیونکہ یہ تقریب ان عظیم شہداء کی قربانیوں کی یاد اور ان کے خاندانوں کی عزت و تکریم کے لیے منعقد کی گئی ہے۔
انہوں نے شہداء کی ماؤں کو خصوصی سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان ماؤں نے ایسے بہادر اور جرأت مند سپوتوں کو جنم دیا جنہوں نے وطن اور عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ضیاء الحسن لنجار نے کچے کے دشوار گزار اور مشکل ترین علاقوں میں فرائض انجام دینے والے پولیس افسران اور جوانوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ سندھ پولیس کے جوان مشکل حالات اور خطرات کے باوجود جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری عزم و حوصلے سے انجام دے رہے ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے خصوصی طور پر شہید اے ایس آئی خمیسو، شہید کانسٹیبل صغیر حسین اور شہید کانسٹیبل علی حسن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء نے آپریشن نجاتِ مہران کے دوران ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیوں میں بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف سندھ پولیس کا آپریشن نجاتِ مہران کامیابی سے جاری ہے اور اس کارروائی کے نتیجے میں جرائم پیشہ عناصر پر مؤثر دباؤ قائم ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن نجاتِ مہران کے دوران اب تک 580 ڈاکو سرنڈر کرچکے ہیں، جبکہ 292 ڈاکو گرفتار اور 51 ڈاکو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیے جاچکے ہیں۔
سندھ پولیس کے جارحانہ اور مؤثر ردعمل کے باعث کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کی سرگرمیاں بڑی حد تک کنٹرول میں آئی ہیں، جبکہ ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ رواں سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران 21 شہریوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا ہونے سے بچایا گیا، جس میں جدید ٹیکنیکل آلات، مؤثر نگرانی اور بروقت پولیس رسپانس نے اہم کردار ادا کیا۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پولیس نے شہریوں کو جرائم پیشہ عناصر کے چنگل میں جانے سے قبل ہی محفوظ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات اور جرائم کی خبریں نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں، تاہم پولیس کی کامیابیوں اور قربانیوں کو بھی اسی انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
سندھ پولیس کے افسران اور جوان روزانہ کی بنیاد پر جرائم، دہشت گردی اور دیگر چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے عوام کے تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں، ان کی خدمات کو بھی بھرپور انداز میں سامنے لانا چاہیے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ،سندھ پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی،جدید تفتیشی تکنیکس، مطلوبہ وسائل، تربیت اور اصلاحات فراہم کر رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے جرائم کی بروقت نشاندہی، مؤثر تفتیش اور جرائم پیشہ عناصر تک پہنچنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام اور اسے برقرار رکھنا حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے سندھ پولیس کو درکار تمام وسائل اور معاونت فراہم کی جائے گی۔
سندھ پولیس آج درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور جدید پولیسنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور سندھ پولیس کی ٹیم کو ہدایت کی کہ جدید تکنیکس اور ٹیکنالوجی سے آراستہ پولیسنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے، تفتیش کے معیار کو بہتر کیا جائے اور جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور سندھ پولیس کو اس مقصد کے لیے اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ، قانون کی بالادستی اور امن کا قیام پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے جسے ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایک بار پھر سندھ پولیس کے تمام شہداء کو سلام اور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
















