پاکستان نےبھارت کے آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق الزامات اوربیانات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت کو آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کا کوئی اخلاقی و قانونی حق نہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ بھارت غلط معلومات پھیلا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ نہیں ہٹا سکتا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 6 سے 8 اگست کے دوران سعودی عرب کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ اسحاق ڈار نے عباس عراقچی کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ نائب وزیراعظم نے حال ہی میں اردن کا ایک اہم دورہ بھی کیا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان عمان، قطر اور دیگر برادر ممالک کی امن و استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کاوشوں کو سراہتا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی کے حل کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے پرامن حل کے لیے ہونے والی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے حل سے مزید مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔
بنگلہ دیش کی حالیہ اندرونی صورتحال سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دیا گیا بیان بھارت اور بنگلہ دیش کا باہمی معاملہ ہے جبکہ بنگلہ دیش کے عوام اپنے معاملات آزادانہ طور پر حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کی خودمختاری اور عوام کے آزادانہ فیصلوں کا احترام کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ترقی، خوشحالی اور تعاون کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
















