اسلام آباد: آن لائن جریدے سٹریتھیا میں شائع ہونے والی معروف بھارتی مصنفہ سیما سنگپتا کے مضمون میں پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم تزویراتی پل قرار دیتے ہوئے اس کے سفارتی اور دفاعی کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مضمون میں پاکستان کو خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے ایک اہم ملک قرار دیا گیا ہے۔
مضمون کے مطابق پاکستان کی سفارتی صلاحیت اسے علاقائی تنازعات میں توازن پیدا کرنے اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے قابل بناتی ہے جب کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات میں اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
سیما سنگپتا نے مضمون میں پاکستان کو ایک ذمہ دار جوہری طاقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی میں مؤثر اور دور اندیش سفارت کاری نمایاں نظر آتی ہے۔
مضمون میں پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے اسے مسلم دنیا میں دفاعی اور تزویراتی تعاون کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔
مصنفہ کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں بھی پاکستان کو ایک کلیدی شراکت دار کی حیثیت حاصل ہے جب کہ دفاعی شعبے میں پاکستان کی صلاحیت اور عسکری تعاون کو علاقائی شراکت داری کے لیے مثبت عنصر قرار دیا گیا ہے۔
مضمون میں بنگلادیش اور شام جیسے ممالک کی ممکنہ شمولیت کے تناظر میں بھی پاکستان کی علاقائی اہمیت کو بڑھتا ہوا قرار دیا گیا ہے۔
سیما سنگپتا کے مطابق پاکستان کا دفاعی شعبہ اور عسکری تعاون خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری کے نئے امکانات پیدا کرسکتے ہیں جس سے مسلم دنیا میں پاکستان کا تزویراتی کردار مزید نمایاں ہوسکتا ہے۔
مضمون میں پاکستان کو موجودہ عالمی اور علاقائی ماحول میں استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کی سفارتی، دفاعی اور تزویراتی صلاحیتیں خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔















