Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آئی سی سی نے ون ڈے اور ٹی 20 ورلڈ کپ فارمیٹ میں بڑی تبدیلیاں کر دیں

کرکٹ کی عالمی باڈی کے مطابق نئے فارمیٹس کا مقصد بڑے ٹورنامنٹس میں غیر اہم مقابلوں کو کم کرنا ہے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ون ڈے اور ٹی20 ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا جس کے تحت آئندہ عالمی مقابلوں میں مزید سنسنی، سخت مقابلے اور اہم میچز کو یقینی بنانے کے لیے نئے مراحل شامل کیے گئے ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں 14 ٹیمیں حصہ لیں گی تاہم ٹورنامنٹ کے روایتی فارمیٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے گروپ مرحلے سے پہلے “سپر سیریز” راؤنڈ شامل کیا جائے گا۔

نئے نظام کے تحت 12ویں، 13ویں اور 14ویں پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں سپر سیریز راؤنڈ کھیلیں گی، جہاں سے صرف ایک ٹیم مرکزی گروپ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ اس کے بعد 12 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا ہر گروپ کی ابتدائی تین ٹیمیں اور دونوں گروپس کی اگلی بہترین ٹیم مجموعی طور پر سات ٹیموں کے “سپر 7” مرحلے میں جگہ بنائیں گی۔

سپر 7 مرحلے میں ٹیمیں راؤنڈ رابن بنیاد پر مقابلہ کریں گی، جس کے بعد ٹاپ چار ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ نئے فارمیٹ کا مقصد ٹورنامنٹ کے ہر مرحلے میں مقابلے کی اہمیت برقرار رکھنا اور غیر اہم میچز کی تعداد کم کرنا ہے۔

2027 کا ورلڈ کپ 14 ٹیموں پر مشتمل ہوگا، جو اس فیصلے کا تسلسل ہے جو جون 2021 میں کیا گیا تھا، جب 2019 اور 2023 کے 10 ٹیموں والے ایونٹس کے بعد ورلڈ کپ کو دوبارہ وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ نئے فارمیٹ کے تحت ابتدائی گروپ مرحلے میں 12 ٹیمیں شامل ہوں گی اور اس مرحلے میں 30 میچز کھیلے جائیں گے۔

یاد رہے کہ 2015 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں 14 جبکہ 2011 میں 16 ٹیمیں شامل تھیں اس کے بعد 10 ٹیموں پر مشتمل فارمیٹ اپنایا گیا تھا، جہاں تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کھیلتی تھیں۔

آئی سی سی کے مطابق 2027 ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے 14 ٹیموں میں سے 10 براہ راست کوالیفائی کریں گی جن میں میزبان جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے علاوہ ستمبر 2026 تک رینکنگ کی ٹاپ 8 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ باقی چار ٹیموں کا فیصلہ 10 ٹیموں پر مشتمل عالمی کوالیفائر کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں رینکنگ کی اگلی دو بہترین ٹیمیں، ورلڈ کپ کرکٹ لیگ 2 کی چار ٹیمیں اور کوالیفائر پلے آف کی چار ٹیمیں شامل ہوں گی۔

عالمی کوالیفائر کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی تاہم امکان ہے کہ یہ دسمبر 2026 یا جنوری 2027 میں نمیبیا یا جنوبی افریقہ میں منعقد ہوگا۔ ورلڈ کپ کے زیادہ تر میچز جنوبی افریقہ میں جبکہ کچھ مقابلے زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب آئی سی سی نے مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں بھی بڑی تبدیلیاں کی ہیں جن کا اطلاق پہلی بار 2028 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں ہوگا۔

20 ٹیموں پر مشتمل ٹی20 ورلڈ کپ بدستور 55 میچز پر مشتمل ہوگا، تاہم پہلے مرحلے کے میچز 40 سے کم کرکے 30 کر دیے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے کے مقابلے 12 سے بڑھا کر 20 کر دیے جائیں گے۔ سیمی فائنل سے قبل دو نئے “ایلیمینیٹر” میچز بھی شامل کیے جائیں گے، جو کوارٹر فائنل کی طرز پر ہوں گے۔

نئے فارمیٹ کے تحت پہلے مرحلے میں پانچ گروپس بنائے جائیں گے، جن میں چار، چار ٹیمیں شامل ہوں گی۔ ہر گروپ کی ابتدائی دو ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی جہاں “سپر 10” مرحلہ تشکیل پائے گا۔ سپر 10 مرحلے میں دو گروپس میں پانچ، پانچ ٹیمیں شامل ہوں گی۔

سپر 10 مرحلے میں ہر گروپ کی پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم براہ راست سیمی فائنل میں پہنچے گی جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں کراس پول ایلیمینیٹر میچز کھیلیں گی، جن کے فاتح سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گے۔

آئی سی سی کے مطابق دوسرے مرحلے میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ ابھرتی ہوئی ٹیموں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ نئی ٹیموں کو زیادہ مواقع مل سکیں اور مقابلے کا معیار مزید بلند ہو۔

2028 ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے 12 ٹیمیں پہلے ہی کوالیفائی کر چکی ہیں جن میں میزبان آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے علاوہ انگلینڈ، بھارت، پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا، ویسٹ انڈیز، زمبابوے، افغانستان، بنگلہ دیش اور آئرلینڈ شامل ہیں۔

باقی 8 ٹیموں کے انتخاب کے لیے عالمی کوالیفائر ہوگا، جس میں کینیڈا، اٹلی، نمیبیا، نیپال، نیدرلینڈز، عمان، یو اے ای اور امریکا سمیت دیگر ٹیمیں حصہ لیں گی۔ علاقائی کوالیفائرز سے افریقہ، ایشیا اور یورپ سے دو، دو جبکہ امریکا اور ایسٹ ایشیا/پیسیفک سے ایک، ایک ٹیم عالمی کوالیفائر میں پہنچے گی۔

آئی سی سی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ 2026 ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی جگہ لینے والی اسکاٹ لینڈ کی ٹیم براہ راست عالمی کوالیفائر میں شامل نہیں ہوگی بلکہ یورپ ریجنل فائنل کے ذریعے کوالیفائی کرنے کی کوشش کرے گی۔

کرکٹ کی عالمی باڈی کے مطابق نئے فارمیٹس کا مقصد بڑے ٹورنامنٹس میں غیر اہم مقابلوں کو کم کرنا، ہر میچ کی اہمیت بڑھانا اور شائقین کو آخری وقت تک سنسنی خیز مقابلے فراہم کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں